ووٹرز نے چوری اور ماڈل ٹاؤن میں 14قتل کرانے کیلئے مینڈیٹ نہیں دیا تھا: چودھری پرویزالٰہی

وعدہ معاف گواہ تیار ہیں، قتل اور کرپشن میں سزا کے خوف سے نوازشریف اور شہبازشریف کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں

پلاننگ سے عدلیہ کی توہین کی جا رہی ہے، بھاری مینڈیٹ کا یہ مطلب نہیں کہ سپریم کورٹ چوری پکڑ کر بھی سزا نہ دے، میڈیا سے بدسلوکی شرمناک ہے

لاہور(10اگست2017) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے نوازشریف کی جانب سے مینڈیٹ کی تکرار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ووٹروں نے انہیں یہ مینڈیٹ چوری کرنے یا ماڈل ٹاؤن میں 14 بے گناہوں کو قتل اور درجنوں کو معذور کر دینے کیلئے نہیں دیا تھا، سانحہ ماڈل ٹاؤن میں وعدہ معاف گواہ تیار ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کیس اور حدیبیہ سمیت کرپشن کے دیگر کیسز میں سزا کے خوف سے دنوں بھائیوں اور ان کے ساتھیوں کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ میڈیا سے گفتگو میں مختلف سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نوازشریف سے پوچھا جائے کہ کیا انہوں نے ووٹرز کو بتایا تھا کہ انہوں نے چوری کی ہے یا وہ اپنی جھوٹی انا کی تسکین کیلئے بے گناہوں کو قتل کرائیں گے، انہیں مینڈیٹ دینے کا مطلب یہ تھا کہ وہ پاکستان اور عوام کیلئے کام کریں گے یہ نہیں کہ چوری اور کرپشن کریں، فوج اور عدلیہ کے خلاف کام کریں گے، کل بھوشن کو پکڑا جائے تو اس کا کیس بھی آگے نہ چلائیں بلکہ اس کو کمزور کریں گے۔ چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ مینڈیٹ اور تیسری بار وزیراعظم بننے سے یہ نہیں ہوتا کہ ان کی چوری، کرپشن سپریم کورٹ میں پکڑی جائے تو بھی وہ ہر چیز سے بری الذمہ ہیں، پلاننگ سے عدلیہ کی توہین کی جا رہی ہے، نوازشریف پچیس سال سے اور 10 سال سے ان کے چھوٹے بھائی پنجاب میں مسلسل حکمران ہیں لیکن حالات سب کے سامنے ہیں، انہوں نے عوام کیلئے کیا کیا ہے، پنجاب کے غریبوں، مریضوں اور لاچاروں کی بددعائیں ان کو لگی ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں ہیں، انہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس اور دیگر کیسز میں بھی نوشتہ دیوار نظر آ رہا ہے اس لیے انہوں نے ڈپٹی کمشنروں اور ڈی پی اوز کو تبادلوں کی دھمکی دے کر راولپنڈی سے لاہور تک ریلی کا پروگرام بنایا لیکن ان کا یہ شو بھی ناکام ہو گیا، یہ تمام حربے آزما رہے ہیں لیکن چوری کے بعد اب یہ کرپشن اور 302 میں بھی نہ صرف پکڑے جائیں گے بلکہ انہیں سزا بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں انہوں نے خون کی ہولی کھیلی تو علامہ طاہر القادری کے فون کے بعد میں فوراً موقع پر پہنچ گیا تھا، منہاج القرآن کے اندر خون ہی خون تھا، درود پاک کا ورد کرتی بچیوں پر بھی گولیاں چلائی گئیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ یہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو جتنا مرضی دبا لیں لیکن یہ ضرور منظر عام پر آئے گی، وکلا تنظیمیں اس کیس میں مدعی بننے جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تین بار وزیراعظم تو بنے لیکن انہیں اداروں سے لڑائی کی عادت ہے وہ اس سے کبھی باز نہیں آئیں گے۔ انہوں نے عدالتوں کو بھی کبھی سیریس نہیں لیا اب اللہ کی پکڑ میں ہیں، ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہوں نے پمفلٹ تو پھینکے ہیں لیکن یہ بھی بتا دیں کہ اقامہ کے ذریعہ کس طرح منی لانڈرنگ کی گئی، لندن اور دیگر ملکوں میں سرمایہ بھیج کر یہودیوں اور ہندوؤں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی گئی جے آئی ٹی کے ذریعہ سپریم کورٹ میں ان کے کاروبار سامنے آئے ہیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے ساتھ ن لیگیوں کی بدسلوکی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ وہ اپنی پارٹی قیادت کے ایما پر کرتے ہیں اور ایسی حرکتیں کرنا نوازشریف کی پرانی ہابی ہے، یہ صاف گوئی برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے میڈیا کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

Share