ناصر عباس شیرازی کے اغوا کا مقدمہ وزیراعلیٰ اور وزیرقانون کے خلاف درج ہونا چاہئے: چودھری شجاعت حسین

مجلس وحدت المسلمین کے رہنما کو رانا ثناء اللہ کیخلاف مقدمہ کرنے پر پولیس وردی والوں کا اٹھا کر لے جانا قابل مذمت ہے، فوری بازیاب کیا جائے

لاہور(02نومبر2017) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے مجلس وحدت المسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ کے اغوا کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجلس کے رہنماؤں کی جانب سے ان کے اغوا کا الزام وزیراعلیٰ شہبازشریف اور وزیرقانون رانا ثناء اللہ پر عائد کیا گیا ہے اس لیے ان دونوں کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے۔ چودھری شجاعت حسین نے ناصر عباس شیرازی کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بتایا گیا ہے کہ ناصر عباس نے رانا ثناء اللہ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے اور گذشتہ روز انہیں پولیس کی وردی والے مسلح افراد زبردستی اغوا کر کے ڈبل کیبن گاڑی میں ڈال کر لے گئے جب وہ واپڈا ٹاؤن لاہور میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جا رہے تھے جو کہ نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے موجودہ حکمرانوں نے ہمیشہ آئین، قانون اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی ہیں جس طرح انہوں نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں دن دیہاڑے 16 بیگناہوں کا پولیس کے ذریعہ قتل اور درجنوں نہتے افراد کو زخمی کیا وہ سب کے سامنے ہے اور ان کا خون ابھی تک انصاف کیلئے پکار رہا ہے، اگر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ان ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جاتا تو یہ اب تک اس طرح پولیس اور انتظامیہ کے ذریعہ مخالفین کو نشانہ نہ بنا رہے ہوتے۔

Share