اسلامی فوجی اتحاد میں شمولیت کو متنازعہ بنانے والے پاکستان کے خیرخواہ نہیں: چودھری شجاعت حسین

لاہور(28دسمبر2015) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کو متنازعہ بنانے والے پاکستان کے خیرخواہ نہیں، ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ پاکستان اور سعودی عرب اسلامی بھائی چارے کے لازوال رشتے میں منسلک ہیں، پاکستان کی سلامتی کو جب بھی کوئی اندرونی و بیرونی خطرہ لاحق ہوا سعودی عرب نے کبھی پاکستان کی طرف سے مدد کی باضابطہ درخواست کا انتظار نہیں کیا اور ہمیشہ خود سے آگے دوڑ کر پاکستان کی مدد کی ہے لہٰذا اس بات کو ایشو نہیں بنانا چاہئے کہ سعودی عرب نے اسلامی فوجی اتحاد میں شامل ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا نام دینے سے پہلے اس کو باضابطہ طور پر اطلاع دی تھی یا نہیں، پاکستان اور سعودی عرب کے عوام کے درمیان باہمی اعتماد کا جو رشتہ ہے اس میں یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ سعودی عرب نے واضح کر دیا ہے کہ اسلامی فوجی اتحاد میں مذہبی فرقہ واریت کو کوئی دخل نہیں ہے اور یہ بغیر کسی فرقہ وارانہ امتیاز کے دہشت گردی کے خلاف کام کرے گا، دنیا کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازہر نے بھی اسلامی فوجی اتحاد کے قیام کو خوش آئند قرار دیا ہے اس کے باوجود اگر کچھ عناصر پاکستان کی اسلامی فوجی اتحاد میں شمولیت پر اعتراض کر رہے ہیں تو ان کا مقصد صرف سعودی عرب اور پاکستان کے عوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔

urdu-download

Share