نیب کے اوپر ادارہ بنانے سے انصاف کا عمل مشکوک ہو گا: چودھری شجاعت حسین

(لاہور27فروری2016) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ نیب کے اوپر ادارہ بنا کر مزید کرپشن کا ذریعہ کھول دیا گیا ہے، نیب کے اوپر ادارہ بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، اداروں کی تعداد میں اضافہ ہو گااور انصاف کا عمل مشکوک ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کا انتخاب لیڈر آف دی ہاؤس اور لیڈر آف دی اپوزیشن کے مشورے سے نہیں ہوا تھا بلکہ صرف دونوں کی رضامندی اور فیصلے کے تحت ہوا تھا، اس میں یہ کہنا کہ نیب میں کوئی خرابی نہیں یہ بھی غلط تصور ہے، اس ادارے میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں ان کا بھی احتساب ہونا چاہئے، بددیانت لوگوں کو فارغ کر کے باکردار نمائندوں کو لانا چاہئے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ اداروں کے اوپر مزید ادارے بنانے سے کرپشن بڑھے گی، نیا ادارہ بھی کرپشن کے نت نئے طریقے نکالے گا، وزیراعظم نواز شریف نے نیب کو اپنے مدمقابل لا کر اپنی کمزوری کا اظہار کیا ہے، نیب میں جو غلطیاں وہ سمجھتے ہیں ان پر چیئرمین نیب اور متعلقہ افسران کو بلا کر ان کی تنبیہ کرتے، اس میں کوئی شک نہیں کہ نیب کے قانون میں تبدیلی لازم ہے جو کہ قانون سازی کر کے بڑی آسانی کے ساتھ کی جا سکتی ہے مگر اس وقت تبدیلی مناسب نہیں، جب ن لیگ اور پی پی پی کابینہ میں اکٹھے تھے تب تبدیلی کیوں نہ کی، اب پنجاب میں نیب کارروائی کررہی ہے تو اس کے کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے، پلی بارگیننگ کا قانون اور پلی بارگیننگ کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم میں تفتیشی آفیسر کو بطور انعام (پرسنٹیج) دینے کا قانون بھی تبدیل ہونا چاہئے۔

urdu-download

Share