ن لیگی حکومت کا نیب سے بچنے کیلئے غیرآئینی ادارہ بنانا بدنیتی ہے: چودھری شجاعت حسین

لاہور(07مارچ2016) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ڈاکٹر خالد رانجھا سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام نیب اور دیگر آئینی اداروں کی خودمختاری اور اختیارات کے تحفظ کے سلسلہ میں منعقدہ سیمینار میں پارٹی کی نمائندگی کریں گے۔ اجلاس میں سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی، سینئر قانون دان ایس ایم ظفر، چودھری ظہیرالدین، عالمگیر ایڈووکیٹ، جہانگیر اے جھوجہ، محمد امجد پرویز ایڈووکیٹ اور ارشد جھوجہ بھی موجود تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ن لیگی حکومت اپنے آپ کو بچانے کیلئے نیب کے اوپر غیرآئینی طریقے سے ایک اور ادارہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے جس کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی اس مقصد کو سمجھتے ہوئے یہ واضح کر دینا چاہتی ہے کہ ایسا اقدام بدنیتی پر مبنی ہو گا، ہمیں یا ہماری پارٹی کو نیب سے کسی قسم کا کوئی خطرہ ماضی میں تھا نہ اب ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور ادارہ نیب کی خودمختاری برقرار رہنی چاہئے۔ پاکستان مسلم لیگ ادارے کی خودمختاری اور بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی تجاویز دے رہی ہے جس سے ادارے کی اہمیت میں اضافہ ہو گا، انسانی حقوق کی پاسداری بھی ہو گی اور ادارے میں موجود سقم دور کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیب ایک اچھا ادارہ ہے اسے مضبوط کرنا چاہئے لیکن حکومت کا اس ادارے کے اوپر ادارہ بنانے کا کوئی جواز نہیں۔

Photo CSH 01 {Mar07-16}

urdu-download

Share