نیب سمیت ریاستی اداروں کو اپنی آئینی حدود میں کام کرنے دیا جائے: ڈاکٹر خالد رانجھا

لاہور(10مارچ2016) پاکستان مسلم لیگ کے رہنما ممتاز قانون دان اور سابق وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا ہے کہ نیب سمیت تمام ریاستی اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے دیا جائے، جمہوری نظام کی مضبوطی اور ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے ضروری ہے کہ ادارے ایک دوسرے کو برداشت کریں نیب لاء میں بہت سے سقم ہیں جن کو دور کرنا ضروری ہے۔ وہ یہاں سپریم کورٹ بار ایسوی ایشن کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار میں خطاب کر رہے تھے جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی اظہار خیال کیا۔ ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ اس سیمینار میں چیئرمین نیب کو خود ہونا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک رولز نہیں بنائے جاتے اس ادارہ کے خلاف شکایات کا تدارک ممکن نہیں، ادارے کے اوپر ادارہ بنانا کوئی عقلمندی نہیں، اصلاح سے بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو بھی اپنا ذہن کھولنا اور بہتری کی طرف قدم بڑھانا چاہئے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم مختلف عدالتیں بنا کر کرپشن کر رہے ہیں اور اس سے انصاف کی کوئی خدمت نہیں ہو رہی، سب کیسوں کی سماعت عام کورٹ میں کیوں نہیں ہوتی؟ کیا سیشن جج میں نیب کورٹ کے مقابلہ میں کم طاقت ہے؟ نیب پر اعتماد کی بحالی اور ادارے کی بہتری کیلئے انہوں نے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کی ضمانت کی اجازت ہونی چاہئے، تفتیش مقررہ مدت میں مکمل کی جائے اور تفتیشی استعداد بہتر ہو جبکہ نیب کیسز کی سماعت بھی عام عدالتوں میں کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بطور ادارہ نیب کی خودمختاری برقرار رہنی چاہئے، متذکرہ تجاویز پر عملدرآمد سے نہ صرف ادارہ کی اہمیت میں اضافہ اور انسانی حقوق کی پاسداری ہو گی بلکہ سقم دور کرنے میں بہت مدد ملے گی۔

Photo PML 01 {Mar10-16}

urdu-download

 

Share