کوئی مسلمان خواتین پر ظلم کا حامی نہیں، آئین پاکستان کے تحت خلاف اسلام قانون نہیں بن سکتا: چودھری پرویزالٰہی

لاہور(15مارچ2016) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ کوئی مسلمان خواتین پر ظلم یا اس کی حمایت نہیں کر سکتا، آئین کے تحت پاکستان میں خلاف اسلام کوئی قانون نہیں بن سکتا اور نہ ہم اسے قبول کریں گے جس کا مظاہرہ ہم ماضی میں دینی مدارس، پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ اور دیگر امور پر اپنی حکومت کے دوران تمام تر دباؤ کے باوجود کر چکے ہیں۔ وہ یہاں جامعہ اشرفیہ میں ممتاز عالم دین اور مہتمم اعلیٰ مولانا مفتی عبیداللہ مرحوم کے انتقال پر فاتحہ خوانی اور ان کے بھائی مولانا فضل الرحیم اشرفی اور صاحبزادے حافظ اسعد عبید اللہ سے چودھری شجاعت حسین اور دیگر اہل خاندان کی جانب سے اظہار تعزیت کے بعد ان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ چودھری پرویزالٰہی نے دین اسلام اور تعلیم کیلئے مولانا مرحوم اور ان کے ادارہ کی شاندار خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے اسلامی قوانین کے حوالے سے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور حکومت کو باور کراتے رہتے ہیں کہ پاکستان ایک نظریہ کا نام ہے اور یہ ملک اسلامی نظریات سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 9/11 کے بعد تمام تر دباؤ کے باوجود ہم نے وفاق المدارس کا کھل کر ساتھ دیا اور چودھری شجاعت حسین نے صدر جنرل پرویزمشرف کو بھی قائل کیا کہ دینی مدارس میں صرف اور صرف دینی تعلیم دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف، شہبازشریف کو حقوق نسواں بل پر علماء سے مشاورت کرنا چاہئے تھی، انہیں مغرب کو خوش کرنے کیلئے ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں، کوئی مسلمان اپنے دین کو نیچا کر کے نہیں دکھا سکتا اور نہ ہی قرآن و سنت کے منافی پابندیاں لگانے سے لبرل پاکستان بن سکتا ہے، اگر خواتین ایکٹ بنانے سے قبل شہبازشریف جامعہ اشرفیہ آ جاتے تو اچھا مشورہ مل جاتا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پنجاب کوئی مقدس گائے نہیں رینجرز کو یہاں سہولت کار اور جرائم پیشہ عناصر کو پکڑنے دیا جائے۔ چودھری پرویزالٰہی نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ لوگ تھانوں سے دور بھاگتے ہیں یہ ہر گھر میں تھانہ لے آئے ہیں تاکہ خاندانی جھگڑے ختم ہوں اور نہ ہی صلح ہو۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ اگر انہوں نے کوئی کرپشن نہیں کی تو نیب کوپنجاب میں کام کرنے دیا جائے۔ اس موقع پر جنید جمشید، مولانا قاسم قاسمی، میاں محمد منیر، ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی، حافظ عمار یاسر سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔

Photo CPE 01 {Mar15-16}

urdu-download

Share