ایم کیو ایم تخریب کار جماعت نہیں، مصطفی کمال پارٹی کا نام ایم کیو ایم پاکستان رکھ لیں: چودھری شجاعت حسین

لاہور(21مارچ2016) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم تخریب کار جماعت نہیں، مصطفی کمال اپنی پارٹی کا نام ایم کیو ایم پی (متحدہ قومی موومنٹ پاکستان) رکھ لیں، پرویزمشرف کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی نہ معافی نامہ دیا۔ یہاں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے لیڈر اپنے ذاتی مفاد کی خاطر یا غیرملکی اشاروں پر استعمال کرتے تھے جو اب کافی حد تک ختم ہو چکے ہیں، رینجرز اور فوج کے جوانوں کو کسی بھی وقت ملک کی سرحدوں کیلئے روانہ کیا جا سکتا ہے، یہ کوئی ایف ایس ایف جیسا نیا ادارہ نہیں ہے جس سے بھٹو دور میں سیاستدانوں کو مروانے اور اسمبلی کے اندر داخل ہو کر اپوزیشن کے ارکان کو اٹھا کر باہر پھینک دینے کے واقعات بھی کروائے جاتے تھے، مصطفی کمال موجودہ ایم کیو ایم اور ان میں موجود تخریب کار عناصر کی نشاندہی کریں، ایم کیو ایم دہشت گرد پارٹی ہوتی تو کراچی میں اتنے ووٹ نہ لیتی۔ انہوں نے کہا کہ 3سو مدارس کو بند کرنے کی باتیں اور تبلیغی جماعت رائیونڈ کو تخریب کار کہنا غلط اور زیادتی ہے، لاکھوں کے مجمع میں دوچار آدمی شامل ہو جائیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ساری تنظیم پر الزام لگا دیا جائے۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس پرویزمشرف کی بیرون ملک روانگی کے سلسلے میں بلانا قومی خزانے کا ضیاع ہے، یہ اجلاس بلانا ہے تو ملک کے اندر بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری، لاقانونیت کے متعلق بلایا جائے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ پرویزمشرف کو روکتے، سپریم کورٹ نے بڑے واضح اندازہ میں کہہ دیا تھا کہ حکومت فیصلہ کرے، ان کی مثال تو ایسے ہی ہے جیسے کھسیانی بلی کھمبا نوچے۔ چودھری شجاعت حسین نے سوالات کے جواب میں کہا کہ رینجرز پر الزام تراشی فوج پر تہمت لگانے کے مترادف ہے، کرکٹ ٹیم بھارت سے نظریہ ضرورت کے تحت ہاری۔ انہوں نے مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ ن لیگ میں بھی مصطفی کمال پیدا ہو سکتے ہیں، شیخ رشید جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ غلط نہیں کچھ نہ کچھ تو سچ ہے، نیب پر پنجاب والے کہتے ہیں اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے، اداروں کو ختم کرنا مسئلہ کا حل نہیں پی آئی اے کو بھی ٹھیک کرنا چاہئے، پٹرول سستا ہونے کے باوجود مہنگائی کا مسئلہ جوں کا توں ہے، خواتین کے حقوق کیلئے بل ہم بھی لائے تھے لیکن مردوں کو کڑے لگانے سے طلاقوں میں اضافہ ہو گا، خاندانی اختلافات بڑھیں گے جن کو کڑے لگیں گے وہ واپس گھر بھی تو آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کم ہوں گے تو اپوزیشن کا گرینڈ الائنس بنے گا، آصف زرداری بھی واپس آئیں گے۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں، پارلیمنٹ کو عوامی مسائل پر توجہ دینے کا اصل کام کرنا چاہئے۔ چودھری شجاعت حسین نے ایک سوال پر کہا کہ نوازشریف کا نام تو تاریخ میں لکھا تو جائے گا لیکن کیا کیا لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے بارے اجلاس میں ان کی تجویز تھی کہ مدارس کی بجائے تعلیمی اداروں کا لفظ استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز کے جوانوں اور افسروں کی کسی سے ذاتی مخالفت نہیں، وہ آج تخریب کاروں کو مار رہے ہیں تو کل وطن کی سرحدوں کا دفاع کریں گے۔ مصطفی کمال کے بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ کمال بھی دکھائیں گے اور جلال بھی۔ نیب کے متعلق انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب وہی کر رہے ہیں جو ان کو کرنا چاہئے، ان کے سامنے جو کیس آ رہے ہیں وہ ان کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ سارک ممالک کے سابق وزرائے اعظم کے فورم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ قریباً 25 سابق وزراء اعظم شامل ہوں گے، سارک کے 6 ممالک میں وزیراعظم اور دو میں صدور ہیں، فورم کے اجلاس کیلئے شوکت عزیز کو بلائیں گے تو وہ بھی آئیں گے جبکہ سابق بھارتی وزرائے اعظم سے نیپال کے سابق وزیراعظم رابطہ کریں گے۔

Photo CSH 01 {Mar21-16}

urdu-download

Share