نیشنل ایکشن پلان پر نیک نیتی سے ایک دن عمل نہیں ہوا، پنجاب میں آرمی ایکشن درست ہے: چودھری پرویزالٰہی

لاہور(03اپریل2016) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ بچوں و خواتین سمیت شہریوں کے قیمتی جان و مال کے تحفظ اور آئندہ نسلوں کو بچانے کیلئے بنائے گئے متفقہ نیشنل ایکشن پلان پر ن لیگ کے حکمرانوں نے نیک نیتی سے ایک دن بھی عمل نہیں کیا، پنجاب میں آرمی ایکشن درست ہے، صوبہ کی موجودہ صورتحال 8 سالہ بدترین حکمرانی کی نتیجہ ہے، حکمرانوں کی ترجیح عوامی مسائل کا خاتمہ نہیں بلکہ ڈالر بناؤ نمائشی منصوبے ہیں، گلشن اقبال بم دھماکے کے کئی زخمی ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں ہمارے دور کی سہولیات، ادویات اور وینٹی لیٹر نہ ہونے سے فرش پر پڑے دم توڑتے رہے۔ وہ یہاں اپنی رہائش گاہ پر وکلاء سے گفتگو کر رہے تھے جن میں سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بار آصف محمود چیمہ، سید شاداب جعفری اور نادر دوگل ایڈووکیٹ بھی شامل تھے۔ اس موقع پر ضلع وہاڑی کے معروف قانون دان اور ن لیگ کے رہنما چودھری محمد اسلم سندھو سینئر ایڈووکیٹ اور چودھری محمد عمران اسلم نے اپنے ساتھیوں سمیت پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ کسی بھی خطہ میں امن کیلئے معاشرتی مسائل کا خاتمہ ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے بلاامتیاز سزا و انصاف کی فراہمی اور پورے صوبہ باالخصوص جنوبی پنجاب میں پسماندگی کے خاتمہ، تعلیم کے فروغ اور روزگار کی فراہمی کیلئے انقلابی اقدامات کیے، اس کے بجٹ میں ریکارڈ اضافہ کیا تاکہ لوگوں کا احساس محرومی ختم ہو اور وہ غلط ہاتھوں میں نہ کھیلیں، غربت کے باعث وہاں دینی مدارس کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ لوگ تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اس لیے سرکاری سکولوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ یہ ایسے حکمران ہیں جو کچھ کرتے نہیں اور اگر فوج کچھ کرے تو اس کے آپریشن کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی سکیورٹی ان کی ترجیح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک تو اتنے دن پہلے اطلاع ملنے کے باوجود گلشن پارک میں کوئی سکیورٹی نہ تھی اور جب زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا گیا تو وہاں جو بدترین صورتحال تھی وہ میڈیا کے ذریعہ سب لوگوں نے دیکھی اور پڑھی۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ 9/11 کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ہم نے 18ارب کی لاگت سے سکیورٹی پلان بنایا جس میں پیشگی کے علاوہ جانی نقصان کم سے کم کرنے کے اقدامات شامل تھے جس کے تحت وارڈنز فورس کی کمانڈو ٹریننگ اور اسلحہ کی فراہمی، 500 پٹرولنگ پوسٹوں، 1122 ریسکیو سروس کا قیام، ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات اور تعمیر نو بھی شامل تھی لیکن انہوں نے وارڈنز سے اسلحہ واپس لے لیا، مزید 200 پٹرولنگ پوسٹوں کی تعمیر اور ان کا پٹرول روک دیا، لاہور کے ہسپتالوں کی حالت زار کا شہبازشریف خود اعتراف کر چکے ہیں دیگر اضلاع میں تو حالات اس سے بھی بدتر ہیں۔

Photo CPE 01 {Apr03-16}

urdu-download

Share