کرپشن کیخلاف جنرل راحیل شریف کا سب سے بڑا قدم، چودھری پرویزالٰہی اور علی ظفر کا وکلاء کنونشن میں خراج تحسین

لاہور(21اپریل2016) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کرپشن کیخلاف سب سے بڑا قدم اٹھایا ہے جو قابل تحسین ہے۔ وہ یہاں مسلم لیگ ہاؤس میں وکلاء کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ جنرل راحیل شریف نے احتساب کا عمل اپنے ادارے سے شروع کر کے ثابت کر دیا کہ وہ کرپشن سے پاک پاکستان اور سب کے احتساب کے حق میں ہیں، پانامہ لیکس والے اور سہولت کار بھی انشاء اللہ جلد شکنجے میں آئیں گے، تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ بار کی سفارشات کی پرزور حمایت کرتے ہیں پاکستان مسلم لیگ کے زیراہتمام منعقدہ وکلاء کنونشن میں صدر لاہور بار ارشد جھوجہ، سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار انس غازی اور پارٹی کے حمایت یافتہ دیگر بار ایسوسی ایشنز کے منتخب عہدیداروں کے علاوہ ڈاکٹر خالد رانجھا، رافع احمد خان، محمد عالمگیر، جہانگیر اے جھوجہ، تابندہ اسلام، جسٹس (ر) نذیر احمد غازی، رائے بشیر، نادر دوگل، چودھری عبدالرزاق، اسلم زار، میاں منیر، ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی، حسن اختر موکل سمیت وکلاء رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کنونشن میں کالاباغ ڈیم کی جلد تعمیر اور انسداد دہشت گردی کا آپریشن آرمی چیف کی قیادت میں جاری رہنے کی قراردادیں منظور کی گئیں جبکہ رانا عبدالوحید ایڈووکیٹ نے 20وکلاء ساتھیوں سمیت پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔ چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ اب دعا کے ساتھ دوا کا وقت بھی آ گیا ہے، پانامہ پیپرز نے ن لیگ کے حکمرانوں کو مکمل طور پر ایکسپوز کر دیا ہے جو احتساب کے نیچے دب جائیں گے، ان کے وزیروں کی اپنی منطق ہے، ایک کا بیان دوسرے سے نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ میری وزارت اعلیٰ میں وکلاء کیلئے کیے گئے انقلابی کاموں میں پبلک پراسکیوٹرز کی تعیناتی، کنزیومر کورٹس کا قیام، پنجاب بار کونسل کی نئی و جدید عمارت کی تعمیر، ہر ڈسٹرکٹ بار کو سالانہ 40لاکھ اور تحصیل بار کو سالانہ 5لاکھ کی گرانٹ، تمام ضلعی مراکز میں جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر، ڈسٹرکٹ کورٹ لاہور میں 3کروڑ روپے سے 2 جدید ترین لفٹوں کی تنصیب، وکلاء برادری کیلئے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج و اپریشن کی سہولت کی فراہمی اور بہاولپور کے بعد دیگر شہروں میں رہائشی کالونیوں کے قیام کا منصوبہ شامل ہیں، شہبازشریف نے آتے ہی وکلاء اور صحافیوں کو ہماری دی گئی مراعات ختم کرنے کی ناکام کوشش کی۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ انہوں نے یورپ اور بھارت سے بھی پہلے صارفین کے حقوق کے تحفظ کیلئے 2005ء میں پنجاب اسمبلی میں کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ منظور کر کے کنزیومر کورٹس قائم کیں لیکن ان پر بھی شہبازشریف نے اپنی فوٹو والی تختی لگا دی، یہ جعلی کاموں کے ماسٹر ہیں، رنگ روڈ، لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، میٹرو ٹرین اور دیگر میگا منصوبوں کے بعد شہبازشریف اپنی مسکراتی تصویر والے اشتہارات کے ذریعہ صوبائی خزانہ سے کروڑوں روپے خرچ کر کے تحفظ صارفین عدالتوں کے قیام کا بھی کریڈٹ لے رہے ہیں جبکہ ہماری قائم کردہ ان عدالتوں کے ذریعے اب تک لاکھوں صارفین اپنا حق لے کر ہمیں دعائیں دیتے ہیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس میں یہ بات شامل کی جائے کہ حکومت کمیشن کی فائنل رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کر نے کی پابند ہو گی کیونکہ یہ نہ ہو کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کی طرح یہ بھی دبا دی جائے۔ سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ نائن الیون کے بعد انہوں نے پنجاب میں امن و امان کا جو نظام قائم کیا تھا شہبازشریف نے اس کو ختم کر دیا اور امن عامہ کی بدترین صورتحال کے باعث صرف لاہور میں شہبازشریف کی وزارت اعلیٰ کے 8سال میں 700شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، ماڈل ٹاؤن میں ان کے اپنے حکم پر جو 14افراد قتل کیے گئے وہ اس کے علاوہ ہیں جبکہ یہ بات بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ پنجاب میں اگر فوج کے کہنے پر نومبر 2015ء میں ہی رینجرز آپریشن شروع ہو جاتا تو سانحہ گلشن اقبال پارک ہوتا نہ کچے (راجن پور) میں شہادتیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ جعلی کاموں کے ماہر پنجاب کے کرپٹ اور قاتل حکمران بے نقاب ہو گئے ہیں ان کے دل میں درد ہے نہ کسی کا احساس، انہوں نے 1122ختم کرنے کی کوشش کی، نابیناؤں پر بھی لاٹھی چارج کر دیا جبکہ ہم نے ان کو خصوصی مراعات دیں۔ سید علی ظفر، ارشد جھوجہ، انس غازی نے اپنے خطاب میں کہا کہ چودھری پرویزالٰہی نے اپنے دور میں تعلیم، صحت سمیت تمام شعبوں میں جو خدمات انجام دیں ان کی وجہ سے وکلاء برادری میں ان کی بڑی عزت ہے موجودہ حکمران مکمل طور پر عوام کے جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے ہیں، امیر اور غریب سب کیلئے فیئر ٹرائل ہونا چاہئے، چودھری پرویزالٰہی واحد سیاستدان ہیں کہ حکومت میں تھے تو عوام میں تھے اور اپوزیشن میں آئے تو ملک چھوڑ کر فرار نہیں ہوئے، جدہ، دوبئی، لندن جانے والے سیاستدان پاکستان صرف وزٹ کرنے آتے ہیں، اس موقع پر ہال گو نواز گو کے نعروں سے گونج اٹھا۔#

Photo CPE 01 {Apr21-16}-Urdu

urdu-download

Share