نوبیل انعام شایان شان نہیں، عبدالستار ایدھی کو ’’نشان حیدر‘‘ کی طرح ’’نشان انسانیت‘‘ دیا جائے: چودھری شجاعت حسین

لال مسجد میں اپریشن کی آخری رات خدمت کیلئے وہیل چیئر پر گندے نالے پر پہنچ گئے تھے، چودھری پرویزالٰہی نے 1122 بناتے ہوئے کئی بار مشورہ کیا

لاہور(11جولائی2016) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے عبدالستار ایدھی کی انسانیت کیلئے خدمات پر زبردست عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی خدمات نوبیل انعام سے بالاتر ہیں، وہ تو کئی لوگوں کو مل جاتا ہے، ان کیلئے جرأت و بہادری کے سب سے بڑے قومی اعزاز ’’نشان حیدر‘‘ کی طرح خدمت انسانی کے سب سے بڑے قومی ایوارڈ ’’نشان انسانیت‘‘ کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے ہر جگہ اور ہر وقت تیار رہتے تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے بتایا کہ میری ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں لیکن سب سے یادگار ملاقات اس وقت ہوئی جب میں 2007ء میں اپریشن سے قبل آخری رات لال مسجد کے مسئلہ کے پرامن حل کیلئے مذاکرات میں مصروف تھا تو مولانا کسی کے کہنے یا بلانے پر نہیں بلکہ از خود اپنی اہلیہ کے ہمراہ وہیل چیئر پر مسجد کے باہر گندے نالے پر پہنچ گئے، اطلاع ملنے پر میں وہاں پہنچا تو کہنے لگے چودھری صاحب آپ انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں میں باہر بیٹھا ہوں کہ مجھے بھی خدمت کا موقع مل جائے۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید بتایا کہ میں نے انہیں نہایت عزت و احترام سے ایک کمرے میں لے جا کر بٹھایا، وہ وہاں تین گھنٹے تک موجود رہے اور جب حالات خراب ہو گئے تو میں نے نہایت اصرار سے انہیں رخصت کیا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید بتایا کہ جب چودھری پرویزالٰہی بطور وزیراعلیٰ پنجاب ریسکیو سروس 1122 کے قیام میں مصروف تھے تو ان سے کئی بار مشاورت کی گئی۔

urdu-download

Share