کشمیری شہیدوں کو پاکستانی پرچم میں دفن کر رہے ہیں اور حکمران رسمی بیانات سے آگے نہیں بڑھ رہے: چودھری شجاعت حسین

کشمیریوں کے خون کی قیمت پر مودی سے دوستی نہ نبھائیں، پاکستانی حکمران زبانی جمع خرچ کی بجائے جرأت مندانہ موقف اپنائیں

مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی نئی لہر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا ذریعہ بنایا جائے، پاکستانی جماعتیں ٹھوس موقف اختیار کریں

لاہور(12جولائی2016) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکمرانوں اور فوج کی جانب سے کشمیریوں کے قتل عام کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری اپنے شہیدوں کی پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر تدفین کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی حکمران ان کے خون کی ہولی پر رسمی بیانات سے آگے نہیں بڑھ رہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے حکمران کشمیریوں کے قیمتی خون کی قیمت پر مودی کے ساتھ دوستی نہ نبھائیں، پاکستانی حکمران زبانی جمع خرچ کی بجائے جرأت مندانہ اور ٹھوس موقف اپنائیں، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جائے، بیرون ملک اپنے سفارتخانوں کو متحرک کیا جائے اور اقوام عالم کو کشمیریوں سے کیا گیا انہیں حق خود ارادیت دینے کا اپنا وعدہ یاد دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی نئی لہر جو برہان الدین وانی کی شہادت سے پیدا ہوئی ہے دن بدن زور پکڑ رہی ہے بلکہ اب تک درجنوں کشمیری جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور سینکڑوں شدید زخمی ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق تک برصغیر کی تقسیم کا ایجنڈا نامکمل ہے جسے روکنے کیلئے مودی سرکار ہر حربہ استعمال کر رہی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی تعداد میں مسلسل اضافہ اور ہر قسم کے ظلم و تشدد کے باوجود کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا جذبہ دن بدن بڑھ رہا ہے، پاکستان کو چاہئے کہ وہ آزادی کی اس لہر کو ٹھوس، مؤثر اور نتیجہ خیز پلاننگ کے ذریعہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا ذریعہ بنائے جبکہ پاکستان کی تمام سیاسی و دینی جماعتیں بھی اس پر ٹھوس مؤقف اختیار کریں۔

urdu-download

Share