’’اٹوٹ انگ‘‘، ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ سے آگے بڑھ کر کشمیریوں کی مرضی پر بولڈ فیصلے کرنا ہونگے: چودھری شجاعت حسین

ترکی میں طیب اردگان کی مسلسل کارکردگی، غریبوں کی خوشحالی اور معاشی مضبوطی رنگ لائی: پریس کانفرنس سے خطاب

لاہور(17جولائی2016) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے یہاں پریس کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور حکومت پاکستان کے کمزور رویہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے حکمرانوں کو ’’کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ‘‘ اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ جیسے روایتی بیانات سے آگے بڑھ کر کشمیریوں کی مرضی کے مطابق مسئلہ کے حل کیلئے بولڈ اور جرأتمندانہ فیصلے کرنا ہوں گے، ترکی میں طیب اردگان کی مسلسل بہتر کارکردگی اور اس کے نتیجہ میں غریبوں کی خوشحالی اور معاشی مضبوطی رنگ لائی ہے۔ ترکی میں عوامی ردعمل پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2003ء میں جب طیب اردگان آئے تو ترکی 25 بلین ڈالر کا مقروض تھا، اپنی محنت اور کوشش سے انہوں نے ترکی کے غریبوں کو خوشحالی دی، اکانومی کو بہتر کیا، آئی ایم ایف کو فارغ کیا بلکہ ترکی اب آئی ایم ایف کو قرضہ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی دعوت پر دورۂ بھارت کے دوران میرے ساتھ ملاقات میں انہوں نے بھی کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے ہمیں بولڈ فیصلے کرنا ہوں گے خواہ وہ فیصلے عوام میں پاپولر نہ ہوں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ حکومت اگر کوئی قرارداد پاس کروانا چاہے تو وہ سات دن میں منظور ہو جاتی ہے مگر کشمیر پر ہم ایک جیسے فقرے بول کر کشمیریوں کو دلاسہ دے رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت گری پر ہمارے حکمران گہری نیند سو رہے ہیں جبکہ چیئرمین کشمیر کمیٹی خراٹے لے رہے ہیں اور کشمیر کاز پر کام کرنے کی بجائے وہ پانامہ کے پاجامہ کے پیچھے پڑے ہیں، حکومت کو چاہئے کہ وہ اسلام آباد میں کھانے پینے میں مصروف وزراء کو پوری دنیا میں کشمیر کاز اور بھارت کے مظالم پر لابنگ کیلئے بھیجیں شاید کوئی ہماری بات سن لے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ وزیراعظم نہرو نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کی جو یقین دہانی کرائی تھی وہ آج تک پوری نہیں ہوئی اور اس مسئلہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سیاہی بھی مٹنے کو ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے ایک اور سوال پر کہا کہ ہماری اپوزیشن کی مفاد اور اناپرستی کی وجہ سے حکومت چل رہی ہے، اگر پی این اے کے نو ستارے حکومت کے خلاف کامیاب ہوئے تھے تو اب بھی اتحاد سے کامیابی مل سکتی ہے۔ نوازشریف کی بیماری کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ ماشاء اللہ صحت یاب ہو گئے ان کیلئے گلدستہ بھیجا تھا اور خیریت بھی دریافت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیلئے صاف اور باکردار ارکان نہ چنے گئے اور اپوزیشن جماعتیں اگر ایک نہ ہوئیں تو آئندہ الیکشن میں ایک بار پھر 2013ء جیسی دھاندلی ہو گی۔

Photo CSH 01 {July17-16}

urdu-download

Share