صوبائی سے قبل مرکزی الیکشن، ن لیگ الیکشن کمیشن کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے: بشارت راجہ

سپریم کورٹ جمہوریت کے نام پر بادشاہت کا نوٹس لے، پاکستان مسلم لیگ کے 19اکتوبر کو صوبائی اور 21کو مرکزی الیکشن ہونگے

لاہور(17اکتوبر2016) وزیراعظم نوازشریف کا ن لیگ کے صوبائی انتخابات سے قبل ہی مرکزی صدر منتخب ہو جانا الیکشن کمیشن کیلئے سوالیہ نشان اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ اس امر کا اظہار پاکستان مسلم لیگ کے چیف آرگنائزر محمد بشارت راجہ نے یہاں مسلم لیگ ہاؤس میں چودھری ظہیرالدین، میاں منیر، ذوالفقار پپن اور بلال شیرازی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ پنجاب کے انتخابات 19اکتوبر کو مسلم لیگ ہاؤس لاہور اور مرکز کے 21اکتوبر کو اسلام آباد میں باضابطہ طور پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری طرزعمل کے فروغ کیلئے سیاسی جماعتیں پارٹی الیکشن کرواتی ہیں لیکن ن لیگ نے الیکٹورل باڈی کے چناؤ سے قبل ہی مرکزی صدر کو کیسے منتخب کر لیا، اس کا جائزہ لینا الیکشن کمیشن کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ باضابطہ پارٹی الیکشن سے کیوں بھاگ رہی ہے، آخر نوازشریف خود کو پہلے پارٹی صدر کیوں منتخب کروانا چاہتے ہیں۔ محمد بشارت راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ملک اور پنجاب میں جمہوریت کے نام پر بادشاہت کے قیام اور اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے بار بار بیڈ گورنینس کی نشاندہی کے باوجود حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اس لیے سپریم کورٹ کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بیڈ گورنینس کے ذریعہ جس طرح قومی خزانہ لوٹا اور برباد کیا جا رہا ہے اس کی ایک مثال ان کو دریائے جہلم کے ذریعہ صاف پانی کی فراہمی کا چودھری پرویزالٰہی کا منصوبہ بھی ہے جس کی کل لاگت ساڑھے تین ارب روپے تھی اور 2ارب جاری بھی کر دئیے گئے تھے مگر شہبازشریف کی حکومت نے اس منصوبے پر کام روک دیا اور وہی منصوبہ اب ساڑھے 7ارب سے مکمل کرنے کیلئے کام ہو رہا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے انتخابات کیلئے چیئرمین الیکشن کمیشن عالمگیر ایڈووکیٹ کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق پارٹی کی جنرل کونسل کا اجلاس 19اکتوبر کو مسلم لیگ ہاؤس لاہور میں ہو گا، صبح 9 بجے تا 10 بجے کاغذات نامزدگی کی وصولی اور 10 تا 10:30 بجے اعتراضات کے بعد عہدیداروں کا انتخاب کیا جائے گا۔

photo-pml-01-oct17-16

urdu-download

Share