توہین رسالت کرنے والے نشان عبرت بنا دئیے جائیں: سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ کے کامل علی آغا کی قرارداد منظور

آئین و قانون اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے تو مقدس ہستیوں کے تحفظ کی ذمہ داری بھی لیتا ہے: طارق بشیر چیمہ کی قومی اسمبلی میں قرارداد

لاہور(10مارچ2017) سوشل میڈیا پر توہین رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف پاکستان مسلم لیگ کے کامل علی آغا کی جانب سے سینیٹ میں پیش کردہ قرارداد منظور کر لی گئی جبکہ طارق بشیر چیمہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں بھی یہ قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ عزوجل اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو راضی کرنے کیلئے ضروری ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والے واحد ملک میں توہین رسالتﷺ کرنے والے اور ان کے سہولت کاروں کو نشان عبرت بنا دیا جائے، پاکستان کا آئین و قانون تمام انبیاء کرام باالخصوص خاتم النبیین و المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صحابہ کرام، اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم، تمام مقدس شخصیات رحمہم اللہ اور شعائر اسلام کے تحفظ کی ذمہ داری لیتا ہے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C انہی مقدس شخصیات و شعائر اسلام کے تحفظ کیلئے قائم کی گئی جبکہ حالیہ دنوں میں کچھ ناعاقبت اندیش اس قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے شعائر اسلام کی عموماً اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صحابہ کرام اور اہل بیت کی خصوصاً توہین کر کے اپنے ناپاک عزائم کو فروغ دیتے ہوئے فسادات کی آگ کو بھڑکانے کی پوری کوشش میں مصروف ہیں اور امت مسلمہ کے ایمان پر رقیق حملے کر کے پاکستان میں نئے فسادات کو جنم دینے کیلئے کوشاں ہیں، ہمارا آئین اور قانون جہاں ہر قسم کی آزادئ اظہار رائے کا حق دیتا ہے وہاں انبیاء کرام، صحابہ کرام، اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم سمیت کسی بھی مقدس شخصیت کی توہین کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکومتی مشینری ان بدبختوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کر رہی، وقت کا تقاضا یہ ہے کہ جو بدبخت افراد اور ان کے سہولت کار سوشل میڈیا پر کسی بھی طریقے سے شان رسالتﷺ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صحابہ، اہل بیت عظام اور دیگر مقدس شخصیات کے علاوہ قرآن پاک جیسی مقدس کتاب کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں ان کے خلاف فوری طور پر قانونی کارروائی کر کے ان مرتکبین توہین رسالت کے نام منظر عام پر لائے جائیں اور ان کو نشان عبرت بنایا جائے ورنہ ملک میں خانہ جنگی اور فساد فی الارض کے برپا ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ اللہ عزوجل اور خاتم النبیین و المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو راضی کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ایسے گستاخانہ افعال کو روکنے کیلئے متعلقہ محکمہ 295-C کے تحت ایسے افراد اور ان کے سہولت کاروں کو نشان عبرت بنائے اور سوشل میڈیا سمیت دیگر تمام ایسے ذرائع کے حوالے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی پر ایک سخت مانیٹرنگ سسٹم قائم کرے اور اس وقت سوشل میڈیا پر تمام لنک اور پیجز فوری طور پر بلاک کیے جائیں اور مرتکبین کے خلاف مثالی کارروائی کرتے ہوئے ملک کے امن اور اسلامیان پاکستان کو ایسی غیر مذہبی اور غیر قانونی سرگرمیوں سے محفوظ رکھا جائے اور ان کو ایسی سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی ایسی ناپاک جرات نہ کر سکے، اگر ان پیجز کو بند کر کے مکمل قانونی ضابطے پورے نہ کیے گئے تو اس کے نتیجے میں ہونے والے تمام معاملات کی ذمہ دار حکومت وقت ہو گی۔

urdu-download

Share