چار جماعتی اتحاد کی چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں گرینڈ اپوزیشن الائنس بنانے کی منظوری

وکلا تنظیموں کی تحریک کی پرزور حمایت، طارق بشیر چیمہ، خرم نواز گنڈاپور، صاحبزادہ حامد رضا، علامہ ناصر عباس پر مشتمل رابطہ کمیٹی دیگر جماعتوں سے رابطہ کرے گی

لاہور(23اپریل2017) پاکستان مسلم لیگ، سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین اور پاکستان عوامی تحریک پر مشتمل 4جماعتی اتحاد نے چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں پانامہ کے ایشو پر گرینڈ الائنس بنانے کی منظوری دے دی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس میں سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی بھی شریک تھے۔ اجلاس میں 6نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں وکلاء تحریک کی بھرپور حمایت اور جے آئی ٹی کی 15 روزہ کارکردگی رپورٹ پبلک کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پانامہ فیصلہ کی روح کے مطابق وزیراعظم ایک ملزم کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے ان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا جاتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں اداروں کے عدم تعاون کی صورتحال میں جے آئی ٹی کو وزیراعظم کے غیر ضروری اثر و رسوخ سے محفوظ رکھنے کیلئے وزیراعظم نوازشریف کا مستعفی ہونا ضروری ہے تاکہ اس جے آئی ٹی کی فائنل رپورٹ کا انجام بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جے آئی ٹی جیسا نہ ہو جائے، سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی کی 15 روزہ دی جانے والی رپورٹ کو پبلک کیا جائے، ہائیکورٹ کے جج جناب باقر نجفی صاحب کی سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ کو فی الفور شائع کیا جائے، چار جماعتی اتحاد نے چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں پانامہ ایشو پر گرینڈ الائنس بنانے کی منظوری دیتے ہوئے دوسری اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کیلئے کہا اور طارق بشیر چیمہ، خرم نواز گنڈاپور، صاحبزادہ حامد رضا، علامہ راجہ ناصر عباس پر مشتمل رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی، یہ اجلاس وکلاء تنظیموں کے تحریک کے اعلان کی پرزور حمایت کرتا ہے۔ اجلاس میں سینیٹر کامل علی آغا، ایس ایم ظفر، طارق بشیر چیمہ، چودھری ظہیرالدین، محمد بشارت راجہ، ڈاکٹر خالد رانجھا، ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی، میاں منیر، شیخ عمر حیات، شاداب جعفری، پاکستان عوامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر بشارت جسپال، سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا، مجلس وحدت المسلمین کے راجہ ناصر اور اسد عباس نقوی بھی شریک تھے۔

Photo CSH 02 {Apr23-17}

urdu-download

Share