چودھری شجاعت حسین کی قیادت میں وفد کی سراج الحق سے ملاقات، پانامہ پر مشترکہ کمیٹی قائم

فیصلہ خلاف ہے، ظفر علی شاہ نے وزیراعظم کو خطاب سے روکا، قرضے معاف کرانے کے جھوٹے الزام پر گارڈین لندن نے ہم سے معافی مانگی اور خرچہ بھی دیا: چودھری شجاعت حسین

وزیراعظم کو جانا ہو گا، اتحاد بارے فیصلہ شوریٰ کرے گی، ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہو گی، باہمی مشاورت سے فیصلے کیے جائیں گے: امیر جماعت اسلامی کی میڈیا سے گفتگو

لاہور(24اپریل2017) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے منصورہ میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سے گرینڈ الائنس بنانے کی بنیادی وجوہات پر تفصیلی گفتگو کی۔ چودھری شجاعت حسین نے بتایا کہ جب تک وزیراعظم نوازشریف وزارتِ عظمیٰ پر قائم ہیں جے آئی ٹی موثر انداز میں کام نہیں کر سکتی اور نہ ہی تفتیشی عمل غیر جانبدار طریقے سے سرانجام دے سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کے قائدین نے چودھری شجاعت حسین کے موقف سے اتفاق کیا اور کہا کہ ہم اپنی جماعت کے اندر بھی یہی خیالات رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم مشترکہ موقف قائم رکھتے ہوئے آپ کے ساتھ تعاون کریں گے اور پانامہ کے ایشو پر چار جماعتوں کی پہلے سے قائم کمیٹی میں اپنے دو نمائندوں لیاقت بلوچ اور میاں مقصود کو شامل کرنے کا اعلان کیا۔ چودھری شجاعت حسین نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دو ججوں نے اختلافی نوٹ دیا حالانکہ پانچوں ججوں نے کہا ہے کہ نوازشریف صادق اور امین نہیں رہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ظفر علی شاہ نے وزیراعظم کو سمجھایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے خلاف ہے اس لیے وہ قوم سے خطاب نہ کریں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کے خلاف ایک نکتہ پر متفق ہونا پڑے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوازشریف جلد مستعفی ہو جائیں گے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ ہمارے تعلقات آج کے نہیں بلکہ میاں طفیل محمد کے دور سے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف قرضے معاف کروانے کی جھوٹی خبر گارڈین اخبار میں شائع ہوئی تھی جس کو ہم نے اپنے وکیل اعجاز بٹالوی کے ذریعے لندن کی عدالت میں چیلنج کیا اور کیس جیت کر سرخرو ہوئے، عدالتی حکم پر گارڈین اخبار نے معافی نامہ فرنٹ پیج پر شائع کیا اور سارا خرچہ بھی ادا کیا۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے چودھری شجاعت حسین اور وفد کے ارکان کو منصورہ میں خوش آمدید کہتے ہوئے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ وزیراعظم کو جانا ہو گا، چار جماعتوں کے اتحاد کے بارے میں مجلس شوریٰ کے مشورے کے بعد لائحہ عمل طے کریں گے البتہ ہمارے مطالبات وہی ہیں جو ان کے ہیں، ورکنگ ریلیشن قائم ہو گی اور باہمی مشاورت سے فیصلے کیے جائیں گے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کمیشن کے ذریعے آزادانہ کام کرنے کیلئے ضروری ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں، جج صاحبان نے آئین کی دفعہ 62-63 کے تحت کھل کر بڑا واضح فیصلہ سنایا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دو ججوں نے وزیراعظم کو مجرم قرار دیا اور تین ججوں نے ملزم اگر دیکھا جائے تو پانچوں ججوں نے نوازشریف کو ملزم قرار دے کر تاریخ رقم کی ہے، نوازشریف استعفیٰ دیں اور اگر بے گناہ ثابت ہو جائیں تو دوبارہ آ جائیں۔ اس موقع پر خرم نواز گنڈاپور، احمد رضا، طارق بشیر چیمہ، سینیٹر کامل علی آغا، امیر العظیم، فرید پراچہ، حافظ ادریس، میاں مقصود، میاں منیر، اسد عباس اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

Photo CSH 01 {Apr24-17}

urdu-download

Share