بھارتی کسانوں کو خوش کرنے والے نوازشریف، اسحاق ڈار کا بجٹ عوام دشمن ہے: چودھری پرویزالٰہی

حکومت ریلیف کی بجائے کسانوں سمیت تمام طبقوں کو مسلسل تکلیف دے رہی ہے، تنخواہوں میں اضافہ مہنگائی کے مقابلہ میں بہت کم ہے

ن لیگی حکمرانوں کے جھوٹے کسان پیکیج پٹواری پیکیج ہیں، بجٹ ڈے پر پُرامن کسانوں پر ظلم و تشدد کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے

لاہور(26مئی2017) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے نئے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ کی حکومت ریلیف کی بجائے غریبوں، کسانوں، مزدوروں، تاجروں سمیت تمام طبقوں کو مسلسل تکلیف دے رہی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ دن بدن بڑھتی مہنگائی کے مقابلہ میں بہت کم ہے، نوازشریف اور اسحاق ڈار بھارت کے کسانوں کو خوش کرنا چھوڑ دیں، حکمرانوں کے کسان پیکیج جھوٹے پیکیج ہیں جو پٹواری پیکیج بن کر رہ گئے ہیں، نئے بجٹ سے بھی انہیں کچھ نہیں ملے گا، کھاد اور بجلی کی قیمتیں بھی کم نہیں ہوں گی۔ انہوں نے ایک بیان میں بجٹ ڈے پر اسلام آباد میں مسائل کے حل اور حقوق کیلئے مظاہرہ کرنے والے پرامن کسانوں پر ظلم و تشدد کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر کسی کا حق ہے مگر حکمران طاقت کے نشے میں چور ہیں، ڈی چوک میں ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے کسانوں پر جس طرح اندھا دھند تشدد، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنے کے علاوہ گرفتاریاں کی گئیں ان کا کوئی جواز نہیں تھا، حکمرانوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ن لیگ کی حکومت کسانوں کی دشمن ہے حالانکہ جس ملک کا کسان خوشحال نہ ہو وہ ملک بھلا کیسے خوشحال ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا ایک ہی موٹو ’’مودی دوستی‘‘ ہے، وہ کسی صورت مودی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے، یہی وجہ ہے کہ بھارتی پیاز، آلو اور ٹماٹر اور دیگر اجناس کی درآمد کو فروغ دے کر اور اپنے کسانوں کو مہنگی بجلی اور دیگر اشیاء دے کر اور ٹیکس لگا کر ان کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے جو ہم کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے کسان دشمن عزائم ترک کر دے اور انہیں بدحال کرنے والی پالیسیوں سے باز رہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ اپنی حکومت کے دوران ہم نے معاشرہ کے دیگر طبقوں کی طرح کسانوں کیلئے بھی مراعات کے دروازے کھول دئیے تھے، ساڑھے 12 ایکڑ تک ٹیکس معاف کیا، زرعی ٹیوب ویل کا 50فیصد بل پنجاب حکومت ادا کرتی تھی، ٹیل تک پانی فراہم کیا، پکے کھالے بنائے اور کسان کی فصل ابھی کھیت میں ہوتی تھی کہ حکومت اسے خرید لیا کرتی تھی، اپنی فصل کی کسان کو اتنی فکر نہیں ہوتی تھی جتنی حکومت کو ہوتی تھی۔#

Share