نوازشریف افغانستان۔ایران کے معاملے کو عزت بے عزتی کا مسئلہ نہ بنائیں: چودھری شجاعت حسین

وزیراعظم بن بلائے افغانستان پہنچ جائیں جس طرح مودی کو فوراً بلا لیتے ہیں، پاک افغان حالات ٹھیک نہ ہوئے تو ہندوستان سے بھی بدتر ہو جائیں گے

ایران میں پارلیمنٹ اور امام خمینی کے مزار پر حملوں کی اطلاعات تشویشناک ہیں

لاہور(07جون2017) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان اور ایران کے معاملے کو اپنی عزت بے عزتی کا مسئلہ نہ بنائے بلکہ آگے بڑھے، اب تک چاہئے تھا کہ نوازشریف وزیر خارجہ کے طور پر وہاں جا کر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے تفصیلی ملاقات کرتے، نوازشریف اپنے آپ کو وزیراعظم نہ سمجھیں بلکہ وزیر خارجہ کے طور پر حالات کو جلد سے جلد درست کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج سے دو ماہ قبل میں نے خبردار کیا تھا کہ انچارج امور خارجہ خود جا کر افغانستان میں صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سے حالات درست کرنے کیلئے بات چیت کریں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ایسا وقت نہ آئے کہ بال ہاتھوں سے نکل جائے تو اس کا پھر کوئی فائدہ نہیں ہو گا، اب خبر آئی ہے کہ افغانی صدر اشرف غنی نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا ہے اس کے باوجود میں یہ کہوں گا کہ فوری طور پر نوازشریف بن بلائے افغانستان پہنچ جائیں جس طرح مودی کو فوراً بلا لیتے ہیں، ملک کی خاطر اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ افغانستان کے ساتھ اگر حالات خراب ہوئے تو ہندوستان سے بھی بدتر حالات ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں خود کش حملوں کے واقعات رونما ہونا بھی تشویشناک ہے جیسا کہ امام خمینی کے مزار اور پارلیمنٹ پر حملوں کی اطلاع ملی ہے۔

Share