پانامہ کیس کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی ن لیگ ٹوٹ جائے گی: چودھری شجاعت حسین

سپریم کورٹ ملک کو چلانے کیلئے گائیڈ لائن بھی دے گی، ملک میں جمہوریت ہے نہ ڈکٹیٹرشپ یہ صرف کمائی والا نظام چلا رہے ہیں

محب وطن سیاستدان اکٹھے ہو جائیں، اب این آر او نہیں ہو گا، ہمیں چھوڑنے والے مل کر گئے تھے اور اب بھی ملتے ہیں: میڈیا سے گفتگو

لاہور(29جون2017) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی ن لیگ ٹوٹ جائے گی، اب بات پانامہ سے آگے نکل چکی ہے، تاریخ لکھی جا رہی ہے، فیصلہ تاریخی ہو گا اور تمام چیزیں سامنے آ جائیں گی، ایک جج صاحب نے صحیح کہا تھا کہ فیصلہ مثالی اور برسوں یاد رکھا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام سپریم کورٹ اور مسلح افواج کے ساتھ ہیں، دو ماہ پہلے میں دیکھ رہا تھا کہ شاید کوئی گنجائش نکل آئے لیکن ایسا نہیں ہوا، دو جج صاحبان نے اختلافی نوٹ نہیں بلکہ ان کے خلاف فیصلہ دیا تھا، تین ججوں نے کہا مزید موقع دیا جائے اور تفتیش کی جائے، یہ کوئی اور ثبوت لے کر آئیں تو جج صاحبان مانیں گے اگر نہیں تو پھر کوئی نیا فیصلہ نہیں ہو گا بلکہ باقی جج بھی دو ججوں کے ساتھ ہی اتفاق کریں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے بارے میں چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد سپریم کورٹ کے فیصلے پر منحصر ہے، میرے خیال میں سپریم کورٹ صرف فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ ایک گائیڈ لائن بھی دے گی کہ ملک کو اس طرح چلایا جائے، ہماری جماعت کا ن لیگ کے سوا ہر ایک جماعت کے ساتھ الائنس اور سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے، ہماری کسی سے کوئی لڑائی نہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ شریف برادران سب کچھ جانتے ہوئے بھی ایسا کر رہے ہیں، ان کو کسی مشورے کی کیا ضرورت، ایسا کرنا ان کی پرانی عادت ہے، یہ جو نظام چلا رہے ہیں صرف کمائی کا ذریعہ ہے ملک میں جمہوریت ہے نہ ڈکٹیٹر شپ، اب ہر آدمی کی نظر سپریم کورٹ پر لگی ہے اور حکمران اس پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کر سکتے، عوام سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے فوج پر تنقید کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان کو کٹھ پتلی کہنا افسوسناک ہے، لوگ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام لیڈر ٹھیک ہو جائیں تو مسائل کا حل نکل سکتا ہے، جماعتیں تو چلتی رہتی ہیں، محب وطن سیاستدان قوم کی خاطر اکٹھے ہو جائیں تو کام ہو جائے گا۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ہمیں چھوڑ کر جانے والے ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں، وہ پہلے بھی مل کر گئے تھے اور اب بھی ملتے رہتے ہیں، ہماری جماعت پاکستان مسلم لیگ ہے جو رجسٹرڈ ہے باقی ن لیگ وغیرہ تو سب بعد میں بنی ہیں۔ انہوں نے نئے وزیراعظم کے بارے میں کہا کہ اگر اسمبلیاں رہیں تو نوازشریف کے بعد کسی کو بھی منتخب کر لیں گی، نوازشریف نااہل ہو گئے تو ن لیگ ختم ہو جائے گی، پارٹی لیڈر کو فارغ کرنا تو دور کی بات ہے مجھے خدشہ ہے کہ اس سے پہلے ہی ن لیگ کے ٹکڑے ہو جائیں گے، یہ حکومت فیصلے سے پہلے ہی چلی جائے گی، ہمیشہ سے جب گورنمنٹ میں اس طرح کے حالات پیدا ہو جائیں تو اپنی سرگرمیاں عوام کے سامنے زیادہ کرتے ہیں اگر یہ باہر نہ جائیں یا کچھ اور نہ کریں تو لوگ ان کا بوریا بستر پہلے ہی گول کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور ن لیگ کے باقی لوگ چاہتے تھے کہ معاملہ لڑائی کی طرف چلا جائے لیکن سپریم کورٹ سب کچھ حوصلے سے دیکھ رہی ہے اس کا فیصلہ اچھا ہے کہ وہ اس میں نہیں پڑے یہ سب معاملات بعد میں دیکھے جائیں گے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ جنرل مشرف اور نوازشریف کے درمیان این آر او پہلے ہوا تھا، بینظیر صاحبہ کے ساتھ بعد میں ہوا، پہلے یہ معاملات سیاسی لیڈروں اور حکومتوں کے درمیان ہوتے تھے اب بات عوام میں جا چکی ہے ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ انہوں نے پارا چنار میں قتل و غارت پر دلی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو چاہئے تھا کہ وہ پہلے پاراچنار جاتے پنجاب بعد میں آتے۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے چودھری پرویزالٰہی حکومت کے عوامی فلاحی پراجیکٹس باالخصوص صحت کے شعبہ میں منصوبے روک کر عوام کو مرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے، اس لیے میں نے چودھری پرویزالٰہی سے کہا ہے کہ وہ ہسپتالوں میں جا کر اپنی تختیاں اتار دیں تاکہ شہبازشریف اپنی تختی لگا کر منصوبے مکمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کا یہ بیان نہایت افسوسناک ہے کہ سانحہ بہاولپور لوگوں کی جاہلیت کی وجہ سے ہوا، اگر لوگ پڑھے لکھے نہیں تو اس کے ذمہ دار بھی یہ ہیں جو پچیس سال سے حکومت میں ہیں، 18ویں ترمیم نے تعلیم کے شعبہ کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، پوری دنیا میں وفاق تعلیم کو چلاتا ہے لیکن یہاں اس کو صوبائی سبجیکٹ بنا دیا گیا، اب قانونی اور آئینی طور پر شہبازشریف کو کوئی نہیں روک سکتا کہ تعلیمی نصاب میں جو مرضی ڈال دیں اور خواہ قائداعظم کی جگہ اپنی تصویر لگا لیں۔

Share