نوازشریف کی کرپشن اور عوام کو دھوکہ دینے کا نام جمہوریت نہیں: چودھری شجاعت حسین، پرویزالٰہی

جمہوریت کے ضامن عوام اور آئینی ادارے ہیں، تمام لیگی اپنی اصل جماعت پاکستان مسلم لیگ میں واپس آئیں

نوازشریف کے استعفیٰ پر اپوزیشن متفق ہے، مسلم لیگیوں کو اکٹھا کرنے کیلئے چودھری شجاعت حسین ہر صوبہ میں جائیں گے: پریس کانفرنس

لاہور/اسلام آباد(16جولائی2017) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ تمام مسلم لیگی اپنی اصل جماعت پاکستان مسلم لیگ میں واپس آ جائیں، ’’جمہوریت‘‘ نوازشریف کی رجسٹرڈ پارٹی نہیں ہے اور نہ ہی نوازشریف کی کرپشن اور عوام کو دھوکہ دینے کا نام جمہوریت ہے، جمہوریت کے ضامن پاکستان کے عوام اور آئینی ادارے ہیں، ہم قومی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، نوازشریف کے استعفیٰ پر اپوزیشن متفق ہے، تمام مسلم لیگیوں کو اکٹھا کرنے کیلئے چودھری شجاعت حسین ہر صوبے میں جائیں گے۔ وہ اپنی رہائش گاہ پر اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ، سینیٹر کامل علی آغا، چودھری وجاہت حسین، مونس الٰہی، زین الٰہی ایم این اے، چیف آرگنائزر محمد بشارت راجہ، جنرل سیکرٹری پنجاب چودھری ظہیرالدین، ریاض اصغر چودھری، ارکان پنجاب اسمبلی عامر سلطان چیمہ، وقاص حسن موکل، احمد شاہ کھگہ، خدیجہ عمر، حافظ عمار یاسر، ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی، قمر حیات کاٹھیا، امتیاز رانجھا، اجمل خان وزیر، چودھری ممتاز، راجہ ناصر، عارف گوندل، محمود ہاشمی، چودھری عارف، عابد جوتانہ، خرم منور منج، محمد خان لغاری، سلیم بریار، مقصود سلہریا، باؤ رضوان، ذوالفقار گھمن، سینیٹر روبینہ عرفان، ارشد مہر، مسز فرخ خان، چودھری اشتیاق بسرا، چودھری اعجاز صفدر، سردار شاہ نواز خان، اور دیگر رہنما شریک تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کا مثبت فیصلہ متوقع ہے، اجلاس نے انہیں پارٹی کی جانب سے موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار دیا ہے، مسلم لیگی ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنا مثبت کردار ادا کریں، اس سلسلے میں چاروں صوبوں کے دورے کر کے مسلم لیگیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کروں گا۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پانامہ کیس کے آغاز سے ہماری پارٹی کا ایک ہی موقف رہا ہے، ٹی او آر کمیٹی میں بھی ہمارے نمائندے طارق بشیر چیمہ اور کامل علی آغا شامل تھے لیکن ن لیگ نے مثبت کردار ادا نہیں کیا، سپریم کورٹ کے فیصلے پر پہلے ن لیگی حکمران مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے تو کسی نے کہا کہ فیصلہ انگریزی میں ہے پہلے اس کو پڑھ لیں، جب فیصلے کی ان کو سمجھ آئی تب سے ان کے چند وزیروں، مشیروں نے نہ صرف جے آئی ٹی بلکہ قومی اداروں کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کر دی، جمہوریت نوازشریف نے رجسٹرڈ نہیں کروائی یہ ایک نظام ہے، ن لیگ والے جمہوریت کی آڑ میں چھپنے کی کوشش کرتے ہیں، نوازشریف اگر چاہتے ہیں تو ملک پر آنچ نہیں آئے گی اور جمہوریت بھی بہتر اندز میں چلے گی، انہوں نے 24 سال حکومت کی، پنجاب میں مسلسل 10 سال سے حکمران ہیں کیا انہوں نے غریب اور عام آدمی کی بہتری کیلئے ایک کام بھی کیا ہے؟ اب بھی اگر یہ مستعفی نہیں ہوتے اور اس صورت میں کوئی خرابی ہوتی ہے تو اس کے ذمہ دار نوازشریف ہوں گے، ن لیگ میں اچھے لوگ بھی ہیں ہم ان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ واپس اپنے گھر آ جائیں، مل کر ملک کی خدمت کریں، جہاں جہاں مسلم لیگ کی سوچ رکھنے والا موجود ہے ہم اسے مسلم لیگ میں خوش آمدید کہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اظہاریکجہتی اور مسلم لیگ کی نمائندگی کیلئے چودھری شجات حسین پیر کو سپریم کورٹ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملکی دفاع کے ساتھ ساتھ ملکی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، ملکی اداروں کو نقصان پہنچانے کا مطلب ملک اور جمہوریت کا نقصان کرنا ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے ایک سوال پر کہا کہ 98 فیصد اپوزیشن جماعتیں ایک موقف پر متفق ہیں، ن لیگ نے کسانوں، غریبوں، محنت کشوں کو کوئی ریلیف نہیں بلکہ دھوکہ دیا اور کسانوں کے باالخصوص دشمن رہے ہیں جبکہ کل بھوشن اور مودی کی جانب سے پاکستان دشمنی کے اقدامات پر بھی خاموش رہے، اب جس طرح نوازشریف پریشان ہیں تو مودی کہہ رہا ہے کہ میری انوسٹمنٹ خراب ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے وہی ملک و قوم کے حق میں بہتر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بھی ہمارا اچھا تعلق ہے آنے والے دن ملک، جمہوریت اور قوم کیلئے اچھے ہوں گے۔ قبل ازیں اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعہ مطالبہ کیا گیا کہ نوازشریف قوم کی آواز پر دھیان دیں اور جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد فوری طور وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ سے مستعفی ہو جائیں۔ قرارداد میں جے آئی ٹی کی جامع تحقیق اور مفصل رپورٹ پیش کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ رپورٹ میں ثبوتوں اور دیگر دستاویزات کے سامنے آنے کے بعد اس میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ میاں نوازشریف اور ان کا خاندان منی لانڈرنگ، جعلسازی، اختیارات کے ناجائز استعمال، پاکستانی خزانے کی لوٹ کھسوٹ جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں اور وہ اقتدار میں رہنے کا جواز کھو بیٹھے ہیں۔

Share