متفقہ اصلاحات کے بغیر الیکشن رزلٹ کوئی نہیں مانے گا: چودھری شجاعت حسین

پانامہ کیس کے فیصلہ کے بعد اگر الیکشن ہوں تو بھی پہلے تمام جماعتوں کی تائید سے انتخابی اصلاحات کی جائیں: بلدیاتی نمائندوں سے خطاب

لاہور(22جولائی2017) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ پانامہ کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اگر الیکشن ہوتا ہے تو ہم ریفارمز کے بغیر الیکشن کی مخالفت کریں گے، پہلے ریفارمز ہوں پھر الیکشن کرائے جائیں اور ان ریفارمز میں تمام جماعتوں کی رضامندی بھی شامل ہو۔ وہ لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر بلدیاتی نمائندوں سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سابق وفاقی وزیر چودھری وجاہت حسین، شافع حسین، حسین الٰہی، عبداللہ یوسف وڑائچ اور سعادت نواز اجنالہ بھی موجود تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کچھ تجاویز دی ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ جو الیکشن کمیشن کی موجودہ تشکیل ہے اس میں اکثریت فیصلہ کرے گی اور چیف الیکشن کمشنر کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی اگر کمیشن کے ارکان کی اکثریت ہارے ہوئے امیدوار کے حق میں فیصلہ دے گی تو جیتا ہوا امیدوار ہار جائے گا اور اصل مسئلہ پھر وہیں سے شروع ہو گا کہ الیکشن کے رزلٹ کو کوئی نہیں مانے گا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ریفارمز پر تمام جماعتوں کی تائید حاصل کی جائے اور پھر الیکشن کروائے جائیں۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار اور زاہد حامد نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ الیکشن ریفارمز کمیٹی نے اب تک 100 میٹنگیں کی ہیں لیکن ان میٹنگز کو اس طرح خفیہ رکھا گیا جیسے الیکشن ریفارمز نہیں نیوکلیئر ریفارمز تیار ہو رہی ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان تمام میٹنگز کی کارروائی پبلک ہونی چاہئے تاکہ لوگوں کو پتہ ہو کہ کیا ہوا۔ اجلاس میں موجودہ بلدیاتی نمائندوں کا تعلق گجرات کی یونین کونسل ماڑی کھوکھراں اور ان کے نواحی علاقوں سے تھا جن میں ملک محمد نعیم سابق ناظم، چودھری جہانگیر مظہر، سید شہزادے شاہ، ملک الیاس کونسلر، ملک ارشد، راجہ محمد ریاض بھٹی، ملک فیصل یوسف، ملک شہرام یونس، میر عباس شاہ، ڈاکٹر جاوید مرزا، چودھری ظفر مہدی، ڈاکٹر آصف، حاجی شریف، عامر شہزاد، چودھری ذوالفقار فوجی، مہر قیصر، مہر یاسر، ملک احتشام، افضال چودھری اور دیگر رہنما موجود تھے۔

Share