میرا مشن تمام جماعتوں میں موجود تمام مسلم لیگیوں کو اکٹھا کرنا ہے: چودھری شجاعت حسین

سانحہ ماڈل ٹاؤن میں 14بیگناہوں کے قتل میں انہیں سزا یقینی ہے، نوازشریف ایسا پاکستان چاہتے جہاں انہیں کرپشن اور من مانی کی کھلی چھٹی ہو

سپریم کورٹ کے ججوں کو حوصلہ پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں: مسلم لیگ ہاؤس میں پرچم کشائی کے بعد بہت بڑے اجتماع سے خطاب

لاہور(14اگست2017) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ میرا مشن تمام جماعتوں میں موجود مسلم لیگیوں کو اکٹھا کرنا ہے، نوازشریف، شہبازشریف اور ان کے ساتھیوں کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں 14 بیگناہوں کے قتل میں سزا یقینی ہے، نوازشریف بار بار اپنا قصور پوچھتے ہیں لیکن ہر بار خود پنگا لیتے اور ٹکر مارتے ہیں، وہ ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہان انہیں من مانی اور کرپشن کی کھلی چھٹی ہو۔ چودھری شجاعت حسین مسلم لیگ ہاؤس میں یوم آزادی پر پرچم کشائی اور کیک کاٹنے کے بعد زبردست نعرہ بازی میں بہت بڑے اور پرجوش اجتماع اور پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس میں خواتین اور مسیحی کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی اور جشن کا سماں تھا۔ چودھری شجاعت حسین نے خود بھی پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ، پاکستان پائندہ باد اور قائداعظم زندہ باہ کے نعرے لگائے۔ کامل علی آغا اور صوبائی جنرل سیکرٹری چودھری ظہیرالدین نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر چودھری شافع حسین، میاں منیر، خدیجہ فاروقی، عالمگیر ایڈووکیٹ، انجینئر شہزاد الٰہی، شیخ عمر، ذوالفقار پپن، رانا اسد منیر ایڈووکیٹ، شاداب جعفری، آمنہ الفت، ماجدہ زیدی، کنول نسیم اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ 70 سال بعد بھی پاکستان کی بنیادوں کو باہر اور اندر سے ہلانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا نوٹس لینا ہر پاکستانی کا فرض ہے، نوازشریف کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے کہا کہ وہ صادق و امین نہیں اور انہوں نے پوری قوم سے جھوٹ بولا ہے، پہلے نوازشریف نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ تسلیم کریں گے لیکن انہوں نے فیصلہ کے بعد گوجر خان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ 20 کروڑ عوام نے مجھے وزیراعظم بنایا اور 5 معزز ججوں نے نکال دیا، اس کے بعد دینہ میں صرف 5 ججوں، لالہ موسیٰ میں پانچ اشخاص اور گوجرانوالہ میں کہا کہ چند لوگوں نے نکال دیا، مجھے خدشہ تھا کہ لاہور پہنچتے پہنچتے کہیں گالیاں نہ دینا شروع کر دیں لیکن پھر بھی جو کچھ کہا اس میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے کہا کہ میں سپریم کورٹ کے ججوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو بڑے حوصلے اور بردباری کے ساتھ سن اور دیکھ رہے ہیں کہ نوازشریف کس طریقے سے عدالتوں کا وقار مجرح کرتے رہے اور عوام میں تاثر دیا جا رہا ہے کہ فیصلہ نہ مانا جائے۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ نوازشریف نے تمام اقدار اور روایات کو بھی فراموش کر دیا اور اپنی اس کرپشن اور جھوٹ میں مریم نواز جو میری بیٹیوں کی طرح ہے کو بھی معاف نہیں کیا اور جو جعلی کاغذات بناتے ان پر اس کے دستخط بھی کروا لیے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ن لیگ نیا آئین بنانا نہیں بلکہ ملک میں انتشار پھیلانا چاہتی ہے، وہ اب کہتے ہیں کہ میں لوگوں کی تقدیر بدل دوں گا اور نیا پاکستان بناؤں گا حالانکہ تقدیر تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، یہ بڑے غرور سے دعوے کر رہے ہیں جو اللہ کو بھی پسند نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نیا اور ان کا نہیں وہی پاکستان چاہئے جو قائداعظم محمد علی جناح نے بنایا تھا، ہم قائداعظم کے پاکستان کو ان کے نظریات اور علامہ اقبال کے خوابوں کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے کو یہاں تک لانے میں عمران خان صاحب کا کلیدی کردار ہے میں ان سے بھی بات کروں گا کہ وہ لفظ نیا کی جگہ پاکستان کے ساتھ کوئی اور لفظ لگا لیں، نوازشریف کہتے ہیں کہ 70 سال میں کسی وزیراعظم نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی جو غلط ہے آئین میں کہیں بھی وزیراعظم کی مدت پانچ سال نہیں صرف اسمبلی کی مدت درج ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ نوازشریف بوکھلاہٹ میں بار بار کہتے ہیں کہ میرا قصور کیا ہے اورپھر لمبی چوڑی شکایتیں لگاتے ہیں درحقیقت سال ڈیڑھ سال کے بعد انہیں ٹکر مارنے کی عادت ہے جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ پہلے صدر غلام اسحق خان پھر جنرل آصف جنجوعہ سے پھڈا ڈالا پھر جنرل جہانگیر کرامت کو نیچا دکھانے کی کوشش کی لیکن وہ باضمیر شخص استعفیٰ دے کر چلا گیا ان کے سامنے جھکا نہیں، پھر سپریم کورٹ کے جج جسٹس سجاد علی شاہ سے پنگا لیا، سپریم کورٹ پر حملہ کروایا اور جنرل مشرف کو جب وہ جہاز میں تھے آرمی چیف کے عہدے سے ہٹا دیا۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ بچے بچے کی زبان ہے کہ نوازشریف اور ان کے خاندان نے چوری کی ہے، ہر جگہ چور چور کے نعرے لگ رہے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ صحافی میرے پرانے پیغام کو ہی دہرا دیں کہ پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ، کیونکہ آج کل یہ نعرہ نہیں لگتا، ہم بحیثیت قوم جن اندرونی و بیرونی مشکلات کا شکار ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم کلمہ لا الہ الا اللہ سے دور ہو رہے ہیں، ہمیں چاہئے کہ شخصی نعرے سے دور رہیں اور بحیثیت قوم یکجہتی کا پیغام دیں، آئندہ مسلم لیگ کے ہر اجلاس میں یہی نعرہ لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ عورتوں اور بزرگوں سمیت ماڈل ٹاؤن میں انہوں نے جو 14 بندے قتل کرائے وہ ان کے خلاف تمام کیسوں سے زیادہ مضبوط ہے جس میں ان کا بچنا ممکن نہیں، کہتے ہیں کہ کسی درخت پر 302 لکھ کر لگا دیا جائے تو وہ بھی سوکھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا مشن تمام مسلم لیگوں کو نہیں تمام جماعتوں میں موجود مسلم لیگی ذہن رکھنے والوں کو اکٹھا کرنا ہے، اپنے کارکنوں اور تمام مسلم لیگیوں کیلئے میرا پیغام ہے کہ وہ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں چاہے خواہ وہ کسی بھی جماعت میں ہوں۔

Share