مسلم لیگیوں کے اتحاد میں اہم پیش رفت، چودھری شجاعت حسین، پیر پگاڑا اور غوث علی شاہ نے کمیٹی بنا دی

کمیٹی میں چودھری پرویزالٰہی، طارق بشیر چیمہ، سردار رحیم بخش اور چیئرمین غوث علی شاہ شامل ہیں، نظریاتی مسلم لیگیوں اور مسلم لیگوں سے رابطہ کرے گی

اصل مسلم لیگی پاکستان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں گے: چودھری شجاعت حسین، آپ کے جذبات اور کوششوں کی قدر کرتے ہیں: غوث علی شاہ، پیر پگاڑا

لاہور/کراچی(16اگست2017) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کے دورۂ کراچی میں مسلم لیگیوں کے اتحاد میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ چودھری شجاعت حسین، مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر صاحب پگاڑا اور بزرگ مسلم لیگی رہنما سید غوث علی شاہ نے اتفاق رائے کے بعد چار رکنی رابطہ کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں پاکستان مسلم لیگ کے سینئر مرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی، سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ ایم این اے، مسلم لیگ فنکشنل کے جنرل سیکرٹری سردار رحیم بخش شامل ہیں جبکہ اس کے سربراہ سید غوث علی شاہ ہیں، کمیٹی تمام نظریاتی مسلم لیگیوں اور مسلم لیگوں سے رابطہ کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔ چودھری شجاعت حسین نے طارق بشیر چیمہ کے ہمراہ کراچی پہنچنے کے بعد اپنی پارٹی کے صوبائی صدر اسد جونیجو اور دیگر رہنماؤں و کارکنوں سے ملاقات کی۔ بعد ازاں سید غوث علی شاہ سے اور پھر غوث علی شاہ کے ہمراہ پیر صاحب پگاڑا پیر صبغت اللہ شاہ سے ملاقات کی۔ پیر صاحب پگاڑا نے چودھری شجاعت حسین اور تمام دیگر رہنماؤں کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور کہا کہ وہ چودھری شجاعت حسین کے جذبات کی دلی طور پر قدر کرتے اور اتحاد کیلئے ان کی کوششوں کو سراہتے ہیں، ان کے دل میں چودھری صاحب کا نہایت احترام اور عزت ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے طارق بشیر چیمہ، اسد جونیجو اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ سید غوث علی شاہ سے ملاقات کے بعد ان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غوث علی شاہ کا مشکورہوں کہ انہوں نے میری اور میرے ساتھیوں کی عزت افزائی کی۔ انہوں نے کہا کہ اس بار ہم لیڈروں کو نہیں بلکہ اصلی اور نظریاتی مسلم لیگیوں کو اکٹھا کرنے کیلئے ان سے رابطے کر رہے ہیں جو گھروں میں بیٹھے پاکستان اور مسلم لیگ کیلئے دعائیں کر رہے ہیں، ہم انہیں بھی ساتھ لے کر چلیں گے اور آپ دیکھیں گے کہ پاکستان مسلم لیگ ہی پاکستان کی محافظ اور ترقی کی ضامن ہو گی، حالات کی درستگی کیلئے ہم اکٹھے نہ ہوئے اور باہر نہ نکلے تو بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگیوں کو پاکستان مسلم لیگ کے نام اور پلیٹ فارم پر ہی اکٹھا کیا جائے گا، دیگر جماعتوں، پیپلزپارٹی میں جو مسلم لیگی بیٹھے ہیں اورن لیگ میں جو اچھے لوگ ہیں ان سے بھی بات کریں گے، نوازشریف اورشہبازشریف سے بات کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پہلے اصل مسلم لیگیوں کو تو اکٹھا کرنے دیں۔ سید غوث علی شاہ نے کہا کہ چودھری شجات حسین سے ملاقات میں ہمارا تمام باتوں پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے۔ مسلم لیگیوں کے اتحاد کیلئے چودھری شجاعت حسین کی کوششوں پر اظہار تشکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام مسلم لیگیوں کے اکٹھا ہونے سے عوامی خدمت کی ایک بڑی جماعت بن جائے گی، ہمارا اس بات پر اتفاق ہوا ہے اور ہم نے اس پر کام شروع کر دیا ہے تاکہ آج کا کام آج ہی کیا جائے اور اس میں کوئی تاخیر نہ کی جائے۔ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ ہے یہ کمزورہوئی تو پاکستان دولخت ہو گیا اس نیک کام میں اللہ کریم ہماری مدد کرے گا امید ہے میڈیا والے بھی ہمارا ساتھ دیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ملک کو جس راستے پر ڈال دیا گیا ہے اس کا تقاضا ہے کہ تمام مسلم لیگی اکٹھے ہوں تاکہ اس وقت حالات کا مقابلہ کیا جائے اگر ایسا نہ ہوا تو حالات زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔ کراچی پہنچنے پر سندھ مسلم لیگ کے صدر اسد جونیجو اور دیگر رہنماؤں اور مسلم لیگیوں کی بڑی تعداد نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ مختلف سوالات پر چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ میں مسلم لیگیوں کو اکٹھا کرنے کے مشن پر ہوں چاہے وہ کسی بھی جماعت میں ہیں مسلم لیگیوں کو اکٹھا کرنے کے مشن پر ہوں چاہے وہ کسی بھی جماعت میں ہیں نواز شریف کے مستقبل کے حوالے سے انہوں نے جواب دیا کہ کیا ابھی تک آپ کو نوازشریف کا مستقبل نظر نہیں آ رہا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویزمشرف سے بھی میڈیا کہے گا تو رابطہ کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ واحد خالق جماعت ہے جس نے پاکستان بنایا تھا نوازشریف بار بار کہتے ہیں کہ سازشیں ہو رہی ہیں آخر نوازشریف کیوں نہیں بتاتے کہ کون سازشیں کر رہا ہے، نوازشریف نے ریلی ضرور نکالی لیکن وہ بھرپور نہیں تھی۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال تو اللہ کی طرف سے ہے، بے گناہ خواتین اور بزرگوں کو دن دیہاڑے گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ کراچی میں امن کا قیام پاک فوج کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

Share