پاکستان کے حوالہ سے امریکی پالیسی میں تبدیلی نوازشریف کی ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے: چودھری پرویزالٰہی

ٹرمپ کی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دے کر جنرل قمر جاوید نے قوم کی لاج رکھ لی، پاکستان امریکی امداد کے بغیر بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہے

لاہور(27اگست2017) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ پاکستان کے حوالہ سے امریکی پالیسی میں تبدیلی نوازشریف کی ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے اگر انہوں نے پچھلے چار سال میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کوئی توجہ کی ہوتی تو آج یہ حال نہ ہوتا کہ دہشت گردی کی جنگ میں 70 ہزار شہادتوں کے باوجود حکومت پاکستان امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کی ہمت نہیں کر پا رہی۔ یہاں اپنی رہائش گاہ پر طلبہ کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد مسلمان ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالہ سے پاکستان کا کیس ہر لحاظ سے مضبوط ہے یہی وجہ ہے کہ روس اور چین نے بھی اس حوالہ سے امریکی صدر کی پاکستان پر تنقید کو نامناسب قرار دیا مگر مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت کا کوئی عالمی وژن نہیں وہ پچھلے چار سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ آزما پاکستانی فوج کوڈس کریڈٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس نے ممبئی حملوں کا ذمے دار پاکستان کو قرار دیا، پٹھان کوٹ حملہ کی ایف آئی آر پاکستان میں درج کرائی، یہ حقیقت ہے کہ آج پاکستان کو خارجہ محاذ پر جن مشکلات کا سامنا ہے ان کی وجہ نوازشریف کی بھارت نواز اور پاک فوج مخالف پالیسیاں ہی ہیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی کھلی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دے کرآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستانی قوم کی لاج رکھ لی ہے، انہوں نے یہ کہہ کر پاکستانی قوم کے جذبات کی بالکل صحیح ترجمانی کی ہے کہ اگر امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی قدر نہیں تو پاکستان کو بھی امریکی امداد کی کوئی ضرورت نہیں، پاکستان امریکی امداد کے بغیر بھی دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ لڑ سکتا ہے اور اپنی حفاظت کر سکتا ہے۔

Share