عدلیہ مخالف مہم، روڈشو سے قانونی فیصلے نہیں بدلتے، عوام سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں: چودھری پرویزالٰہی

فاضل ججوں نے شریف فیملی کو پوری مہلت دی لیکن وہ اپنے حق میں کوئی ثبوت، قانون یا نئی چیز پیش نہ کر سکے: میڈیا سے گفتگو

لاہور(15ستمبر2017) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ عدلیہ مخالف مہم چلانے اور روڈشو سے قانونی فیصلے تبدیل نہیں ہوتے، عوام سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں اور اس کے فیصلوں کو عوام کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے۔ وہ نوازشریف اور ان کی فیملی کے بارے میں سپریم کورٹ کے پانامہ کیس میں فیصلہ کے خلاف نظر ثانی اپیلیں مسترد ہونے کے بعد میڈیا کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ چودھری پرویزالٰہی نے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے اس فیصلہ کو میرٹ اور قانونی تقاضوں کے مطابق قرار دیا۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے پانامہ کیس کی سماعت کے دوران نوازشریف فیملی کو صفائی اور ثبوت دینے کے علاوہ اپنا موقف پیش کرنے کیلئے پورا وقت دیا لیکن وہ سماعت کے دوران کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ چودھری پرویزالٰہی نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ نظر ثانی اپیلوں کی سماعت کے دوران بھی ملزموں کو پورا وقت دیا گیا لیکن وہ کوئی نئی چیز پیش نہیں کر سکے اور کوئی ایک قانونی نکتہ بھی اپنے حق میں پیش کرنے سے تو قاصر رہے لیکن عدالت کے باہر عدلیہ مخالف بیان بازی کی مہم جاری رکھی حالانکہ عدلیہ کے خلاف مہم چلانے، روڈ شو، شور و غل کرنے یا مجھے کیوں نکالا کی رٹ لگانے سے قانونی فیصلے تبدیل نہیں ہوتے اس کیلئے ٹھوس ثبوت اور قانون کے حوالے پیش کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن شریف خاندان کے پاس اپنی صفائی میں نہ تو پہلے کوئی ثبوت تھا اور نہ اب ہے تو پھر سپریم کورٹ کا فیصلہ تو یہی آنا تھا۔

Share