سانحہ ماڈل ٹاؤن: ہائیکورٹ کا حکم قابل تحسین اور قاتلوں کی سزا کی جانب پہلا قدم ہے: چودھری پرویزالٰہی

نواز اور شہبازشریف کو انشاء اللہ کیے کی سزا ضرور ملے گی، دنیا دیکھے گی کہ کتنے سلطانی گواہ ان کے منہ پر سچ بولتے ہیں

لاہور(21ستمبر2017) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں لاہور ہائیکورٹ کا جسٹس باقر نجفی کی تحقیقاتی رپورٹ پبلک کرنے کا حکم 14 بیگناہوں کو قتل اور درجنوں کو زخمی کرنے والوں کی سزا کی جانب پہلا قدم ہے۔ ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بارے میں میڈیا کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ کا یہ حکم قابل تحسین ہے اور یہ شہدا کے لواحقین اور زخمیوں کی تین سالہ دعاؤں اور کوششوں سے ہی ممکن ہو سکا ہے، ہم ان کے صبر، حوصلے اور عزم کی بھی داد دیتے ہیں، انسانیت، قانون اور انصاف کی سربلندی پر یقین رکھنے والوں کو یہ بھی یقین ہے کہ انشاء اللہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 14 شہیدوں اور بیگناہ زخمیوں کا خون رنگ لا کر رہے گا، نوازشریف، شہبازشریف اور سانحہ میں ملوث ان کے قریبی ساتھی اپنے کیے کی سزا سے نہیں بچ سکیں گے، مظلومین کی آہوں اور رب ذوالجلال کے انصاف پر ایمان کے نتیجہ میں انہیں انصاف ضرور مل کر رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اور ہماری جماعت پہلے دن سے ہی سانحہ کے متاثرین کا کھل کر ساتھ دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے، نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا دیکھے گی کہ کتنے سلطانی گواہ سامنے آتے ہیں جو حقائق سے پردہ اٹھائیں گے کیونکہ انہوں نے مجبوراً غیرقانونی احکامات کی تعمیل تو کر دی لیکن اب ان کا ضمیر انہیں چین نہیں لینے دیتا اور وہ مناسب فورم اور موقع پر حق و سچ کا اعتراف کرنے کیلئے تیار ہیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے ایک اور سوال پر کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ یہ رپورٹ کسی آتشزدگی کی نذر ہونے سے بچ گئی ورنہ اس دور کی ایسی مثالیں بھی ہیں کہ ایسا ریکارڈ اور تحقیقاتی رپورٹیں، بلڈنگز اور زندہ انسانوں سمیت شعلوں کی نذر کر دی گئیں اور سب ثبوت جلا کر راکھ کر دئیے گئے۔

Share