عاشقان رسولﷺ پر بدترین تشدد کا مقصد نوازشریف کو بچانا ہے: چودھری شجاعت حسین، پرویزالٰہی

سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف تقریریں کرنے والے کس منہ سے عدالتی فیصلہ کی بات کرتے ہیں

راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ پبلک نہیں کی گئی تاکہ اس میں ذمہ دار قرار دئیے گئے نوازشریف اور وزراء کے نام سامنے نہ آئیں

لاہور(25نومبر2017) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ عاشقان رسولﷺ پر بدترین تشدد کا مقصد نوازشریف کو بچانا ہے ، حکومت کی اپنی قائم کردہ راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ کو اس لیے پبلک نہیں کیا جا رہا تاکہ اس میں ختم نبوت پر ایمان کے حلف نامہ میں تبدیلی کے اصل ذمہ دار قرار دئیے گئے نوازشریف اور وفاقی وزراء کے نام سامنے نہ آ سکیں۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینل آف کرنا اور میڈیا پر پابندیاں مسئلہ کا حل نہیں، حقائق پر پردہ ڈالنے سے حالات مزید خراب ہوں گے، اس صورتحال کو کنٹرول کرنے کا ابھی بھی واحد حل راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ کو پبلک کرنا ہے۔ مختلف سوالات کے جواب میں چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ وزیراعظم کو خود علماء سے مذاکرات کرنے چاہئیں، موجودہ صورتحال کو سنجیدگی سے کنٹرول کیا جائے، وزیراعظم کو چاہئے تھا کہ مزید ہدایات کیلئے نوازشریف کے پاس لاہور جانے کی بجائے فیض آباد دھرنا میں خود جا کر بات کرتے، حکمران اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں، ہنگامے پورے ملک میں پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ہر مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے نکل سکتا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف تقریریں کرنے اور فاضل ججوں پر حملہ کرنے والے کس منہ سے دوسروں کو عدالتی فیصلہ یاد دلا ہے ہیں اور اس پر عمل کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ اگر میں وزیراعظم ہوتا تو آپریشن شروع ہی نہ ہوتا اور میں خود مذاکرات کیلئے ان کے پاس پہنچ جاتا، جب سپریم کورٹ پر حملہ ہوا تھا تو میں نے ایسا ہی کیا تھا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نائب وزیراعظم کے طور پر لاہور میں نوازشریف کے پاس بیٹھے ہدایات لے رہے ہیں، نوازشریف اپنی تباہی تو کر رہے ہیں ملک کی تباہی نہ کریں۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ یہ ہر مسلمان کا مسئلہ ہے، ان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہئے تھا جس سے ہر مسلمان رنجیدہ ہے، حضور پاکﷺ کے حوالے سے جو حتمی چیزیں ہیں ان کو چھیڑنے کی کیا ضرورت تھی لیکن نوازشریف اور رانا ثناء اللہ برطانیہ اور بیرون ممالک قادیانیوں کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارا کچھ نوازشریف کے کہنے پر ہوا ہے ورنہ وزیرقانون کی کیا حیثیت ہے کہ وہ یہ ازخود ہی کر لے، نوازشریف کی مرضی کے بغیر پارلیمنٹ کے اندر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا تو پھر قانون سازی کیسے ہو سکتی ہے، نوازشریف نے اپنے آپ کو اہل کروانا تھا تو سب نے دیکھا کیسے سب اسمبلی میں جا کر بیٹھ گئے تھے، زاہد حامد اور دوسرے وزیر کو کس نے کہا یہ سب کچھ کرنے کیلئے؟ اس سب کے پیچھے نوازشریف ہے، لاہور سمیت پورے ملک میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اب یہ کام رکے گا نہیں یہ بڑھے گا، بہتر ہے اصل قصور وار کو سامنے لایا جائے، حکمرانوں نے برا کام یہ کیا کہ تمام چینل بند کر دئیے اس سے قبل ایسے اقدام کی کوئی مثال نہیں ملتی، چینلز کی نشریات بند کرنے سے صورتحال عوام تک نہیں پہنچتی جس سے بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔

Share