ناموس رسالتﷺ سے متعلق قوانین میں تبدیلی سے حکومت باز رہے: چودھری شجاعت حسین

مخصوص غیرملکی و غیر اسلامی ایجنڈے کے تحت ختم نبوت کے بعد انسانی حقوق کی آڑ میں مسلمانوں کی مزید دل آزاری کا خطرناک کھیل نہ کھیلا جائے: جماعت اسلامی کے وفد سے گفتگو

لاہور(12دسمبر2017) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ناموس رسالتﷺ سے متعلق قوانین میں تبدیلی سے حکومت باز رہے۔ وہ یہاں اپنی رہائش گاہ پر جماعت اسلامی پاکستان کے وفد سے گفتگو کر رہے تھے جس میں مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، نائب امیر ڈاکٹر فرید پراچہ اور جماعت اسلامی پنجاب کے امیر میاں مقصود احمد شامل تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ پہلے حکومت نے الیکشن قوانین کی آڑ میں ختم نبوت کے معاملہ میں چھیڑ چھاڑ کی اور اب مخصوص غیر ملکی اور غیر اسلامی ایجنڈے کے تحت انسانی حقوق کی آڑ میں مسلمانوں کی مزید دل آزاری کا خطرناک کھیل کھیلنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور سینیٹ سے ناموس رسالت سے متعلق قوانین کو تبدیل کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت اور ناموس رسالتﷺ ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے جس کے بغیر کوئی شخص مسلمان ہو ہی نہیں سکتا، حکومت کو چاہئے کہ وہ اس خطرناک کھیل سے باز رہے کیونکہ حکومت ایک مخصوص ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور اسے اپنے ہی ملک کے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کا کوئی احساس نہیں ہے۔ انہوں نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان پر زور دیا کہ وہ حکمرانوں کے غیر ملکی اور غیر اسلامی ایجنڈے کو آگے نہ بڑھائیں۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ختم نبوت کے معاملہ پر دھرنا بھی حکومت کی نااہلی اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ تھا، حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ آئندہ بھی ایسی کوئی حرکت نہ کریں کہ ملک کو دوبارہ بحرانی کیفیت کا سامنا کرنا پڑے۔

Share