چیف جسٹس ثاقب نثار میو ہسپتال نہ جائیں تو کیا عوام کو مرتا چھوڑ دیں: چودھری پرویزالٰہی

پیٹ درد صرف ان کو ہوا جن کی اپنی کارکردگی صفر ہے، وہاں میرا بنایا 450 بیڈ کا ہسپتال و سرجیکل ٹاور 10 سال میں چالو نہیں کیا

نوازشریف کو تو اپنے حلقہ کے میو ہسپتال میں جانے کی توفیق نہیں ہوئی، چیف جسٹس نے عوام کی دعائیں لیں اور ثواب بھی کمایا: میڈیا سے گفتگو

لاہور(24دسمبر2017ء) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اگر میو ہسپتال نہ جائیں تو کیا عوام کو مرتا چھوڑ دیں، ان کے دورہ سے پیٹ میں درد صرف ان کو ہوا جن کی اپنی کارکردگی صفر ہے، چیف جسٹس نے میو ہسپتال کا دورہ کر کے نہایت ثواب کا کام کیا اور دعائیں بھی لیں، نوازشریف کو تو اپنے حلقہ میں ہی میو ہسپتال جانے کی توفیق نہیں ہوئی جہاں شہبازشریف کی ناقص کارکردگی اور نااہلی کے باعث غریب مریضوں کو ادویات ملتی ہیں نہ بیڈ میسر ہیں اور اس ہسپتال میں میرا قائم کردہ 450بیڈ کا ہسپتال اور سرجیکل ٹاور موجودہ حکمرانوں نے جان بوجھ کر 10سال میں چالو نہیں کیا جو ان کی عوام دشمنی کا ثبوت اور ناقص کارکردگی کے منہ پر طمانچہ ہے۔ یہاں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس دورہ کے بعد غریب مریض جہاں چیف جسٹس کو زیادہ دعائیں دے رہے ہیں وہاں حکمرانوں کیلئے ان کی بددعاؤں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف ہر طرف اپنی کارکردگی کے ڈھول تو بجا رہے ہیں لیکن عملاً عوام کی صحت، تعلیم اور فلاح بہبود کیلئے انہوں نے اپنے ان دو ادوار میں بھی کچھ نہیں کیا۔ میو ہسپتال میں ایمرجنسی ٹاور سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے آتے ہی اس منصوبہ پر کام روک کر پہلے تو اس کی پانچویں منزل گرا دی اور اس کے بعد میرے انتقام میں آج تک اسے چالو نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کے مسائل کی بات کرنے والی ہر شخصیت کو یہ حکمران اپنا مخالف اور دشمن سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ میو ہسپتال کے دورہ پر چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور عوامی فلاح کے میرے منصوبوں پر کام روک دیا گیا جو کہ نہ صرف غیر جمہوری، غیر آئینی بلکہ شرمناک رویہ ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے یقین ظاہر کیا کہ چیف جسٹس عوام دشمنوں کے اعتراضات اور تنقید کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان کی جانوں کی حفاظت اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری پوری کرتے رہیں گے۔

Share