مجرم حکمرانوں کو سزا نہ ملی تو آئندہ بڑا قتل عام کریں گے: چودھری پرویزالٰہی

چودھری شجاعت حسین، پرویزالٰہی، کامل علی آغا سے خرم نوازگنڈاپور کی ملاقات، اے پی سی میں شرکت کی دعوت قبول کر لی

نواز،شہبازشریف نے کبھی سچ نہیں بولا اب ایک دوسرے سے کھیل کھیل رہے، پہلے ہمارے خلاف گیم کرتے رہے، میڈیا ان کے جھوٹ یاد دلاتا رہے

حکومت کا ڈاکٹر طاہرالقادری کا نام ای سی ایل میں ڈالنا نیک شگون ہے ان کے باہر نہ جانے سے ظالم جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے: مشترکہ پریس کانفرنس

لاہور(25دسمبر2017ء) پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر علامہ طاہرالقادری کی ہدایت پر سیکرٹری جنرل خرم نوازگنڈاپور نے پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جسے پاکستان مسلم لیگ نے قبول کر لیا۔ خرم نوازگنڈاپور اور سینیٹر کامل علی آغا کے ہمراہ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ اگر ماڈل ٹاؤن میں 14 بیگناہوں کے قتل عام پر حکمرانوں کو سزا نہ ملی تو وہ آئندہ اس سے بھی بڑے قتل عام کریں گے، پہلے دن سے لے کر آج تک کوئی ایسا موقع نہیں آیا جس میں ہم نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بات نہ کی ہو، ہم نے ہر مرحلہ پر تحریک کا ساتھ دیا اور ان کے ساتھ اس سانحہ کو زندہ رکھا۔ انہوں نے جسٹس باقر نجفی رپورٹ کو اوپن کرنے پر عدلیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ظالم حکمرانوں نے اس رپورٹ کو چھپانے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچنا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا نام ای سی ایل میں ڈالنا بڑا اچھا اقدام ہے وہ باہر نہیں جائیں گے تو ظالم جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کی طرح چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ بھی اداروں کے دورے کریں تاکہ حکمرانوں کی جانب سے عوام پر جو ظلم ڈھائے جا رہے ہیں ان کا مداوا ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دونوں بھائی آپس میں کھیل کھیل رہے ہیں، پہلے وہ ہمارے خلاف گیم کرتے رہے ہیں، یہ مکافات عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اے پی سی مظلوموں کو انصاف دلانے کیلئے بلائی جا رہی ہے تاکہ یہ انصاف ایک مثال بن جائے۔ خرم نواز گنڈاپور نے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویزالٰہی سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت کو ہم نے دعوت اس لیے نہیں دی کیونکہ ہم اس حکومت کو غیرآئینی سمجھتے ہیں، یہ بدمعاشی سے حکومت کر رہے ہیں، سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین نے اے پی سی میں شرکت کیلئے فون کیا جس پر ان سے کہا گیا کہ اگر آپ شہبازشریف اور رانا ثناء اللہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں تو آپ کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت دیں گے۔

Share