سات سالہ بچی زینب کے قتل نے قوم کی روح کو جھنجوڑدیا ہے: مونس الٰہی

شہریوں کی حفاظت میں بری طرح ناکام لیگ کے پاس حکومت میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں

شہباز حکومت کا سیف سیٹی کے نام پر اربوں روپوں کے زیاں کا نتیجہ پنجاب میں جرائم کی شرح میں 85 فیصد اضافہ

لاہور(11جنوری2018) قصور کی سات سالہ بچی زینب سے زیادتی اور اس کے قتل نے پوری قوم کی روح کو جھنجوڑدیا ہے، ایسی حکومت جو اپنے معصوم شہریوں کے جان و مال کی حفاظت میں اس بری طرح سے ناکام ہو جائے اس کے پاس حکومت میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ 2015ء کے قصور سیکس سکینڈل کے ملزمان کو ن لیگ نے سیاسی فوائد کیلئے پولیس تفتیش میں چھوٹ دلوائی، شہباز شریف کے اربوں روپوں کے سیف سٹی سکینڈل کا نتیجہ پنجاب میں مجموعی شرح جرائم میں 85 فیصد اضافہ اور باالخصوص بچوں کے خلاف جنسی جرائم اور قتل کے واقعات کی شرح میں 36 فیصد اضافہ ہے۔ مونس الٰہی مرکزی رہنما پاکستان مسلم لیگ نے ان خیالات کا اظہار آج پاکستان مسلم لیگ کے قصور سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی سردار وقاص حسن مؤکل سے ٹیلی فونک گفتگو میں کیا۔ مونس الٰہی نے سردار وقاص حسن مؤکل سے قصور کے حالیہ سانحات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیااور پارٹی کی طرف سے قصور کے عوام کو ن لیگ کے مظالم کے خلاف بھر پور حمایت کی یقین دہانی کروائی۔ گفتگو میں مونس الٰہی نے شہباز حکومت کے شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت میں ناکامی پر شدید تنقید کی اور پنجاب پولیس کے معصوم عوام پر گولیاں چلانے کے اقدام کوانتہائی ظالمانہ قرار دیا۔ انہوں نے بدھ کے روز ہونے والی قصور میں پولیس فائرنگ کو ماضی کے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی اگلی کڑی قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثنا اللہ پر مونس الٰہی نے الزام لگایا کہ 2015ء کے قصور سیکس سکینڈل کے مرکزی ملزمان کو انہوں نے کمزور پولیس تفتیش کا فائدہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ قصور میں زینب اور دوسری بچیوں کے ساتھ ہونے والے روح فرسامظالم کی ذمہ دار ی بھی انہی دو شخصیات پر عائد ہوتی ہے۔ مونس الٰہی نے کہا کہ اگر ن لیگ حکومت واقعی عوام کی خیر خواہ ہوتی تو وہ ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی قانون نافذ کرنے کی ناکام حکمت عملیوں کو تبدیل کرتی نہ کہ قوم کے اربوں روپے نمائشی اور بے کار منصوبوں جیسے، پولیس یونیفارم کی تبدیلی، مہنگی ڈولفن فورس کا قیام، نگرانی کے ناقص کیمروں کی خریداری وغیرہ پر اجاڑدیتی۔

Share