انشاء اللہ کامل آغا اور چودھری سرور دونوں جیتیں گے، آئندہ بھی مشاورت سے چلیں گے: چودھری پرویزالٰہی، شاہ محمود قریشی

چودھری شجاعت حسین اور پرویزالٰہی کے گھرانہ کی مثالی سیاسی بصیرت، رواداری، وضعداری اور بے پناہ عوامی خدمات سب جانتے ہیں، انہوں نے اپنی حکومت میں دشمنوں کیخلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی: پریس کانفرنس

پاکستان مسلم لیگ کے قائدین سے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ملاقات میں پنجاب سے سینیٹ الیکشن کیلئے 8 رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی، آئندہ بھی مشترکہ سیاسی حکمت عملی سے بہتر نتائج حاصل کرنے کا فیصلہ

لاہور(04فروری2018) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی سے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی قیادت میں وفد نے یہاں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس میں پنجاب سے سینیٹ کے الیکشن میں سینیٹر کامل علی آغا اور چودھری سرور کی کامیابی کیلئے دونوں جماعتوں کے 4، 4 ارکان پر مشتمل 8 رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی جبکہ آئندہ بھی مشاورت سے چلنے اور باہمی مشورہ سے سیاسی حکمت عملی طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تحریک انصاف کے وفد میں چودھری سرور، شفقت محمود، میاں محمود الرشید، میاں حامد معراج شامل تھے جبکہ ملاقات میں طارق بشیر چیمہ، سینیٹر کامل علی آغا، چودھری ظہیرالدین، عامر سطان چیمہ، احمد شاہ کھگہ، وقاص موکل، خدیجہ فاروقی، ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی اور شافع حسین بھی موجود تھے۔ چودھری پرویزالٰہی نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کیلئے پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار سینیٹر کامل علی آغا اور پی ٹی آئی اے چودھری سرور انشاء اللہ دونوں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم مل کر یہ الیکشن لڑیں گے جس کیلئے حکمت عملی وضع کی جائے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہمارے امیدوار کی حمایت کر رہی ہے۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ عدلیہ اور فوج دونوں قابل احترام ادارے ہیں اور ان کے وقار کا خیال رکھنا چاہئے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویزالٰہی کے گھرانہ کی مثالی اور روشن سیاسی روایات، بصیرت، رواداری اور وضعداری سے کون واقف نہیں، میں اور چودھری پرویزالٰہی نے اکٹھے سیاست کی، انہوں نے پنجاب میں اپنی حکومت کے دوران بلاامتیاز سب کی فلاح و بہبود کیلئے بے پناہ کام کیا اور کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی بلکہ دشمنوں سے بھی حسن سلوک کا مظاہرہ کیا جنہوں نے ان کو پریشان کیا تھا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ دونوں جماعتیں بہترین اور مشترکہ سیاسی حکمت عملی کے ذریعہ پنجاب میں بہتر نتائج حاصل کر سکتی ہیں، ہم آئندہ معاملات پر بھی مشاورت کریں گے اور باہمی مشورہ سے حکمت عملی وضع کریں گے۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ کے قائدین کی سیاسی بصیرت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ پنجاب کی سیاست کو بہت بہتر سمجھتے ہیں اور ہم بھی۔

Share