گالی گلوچ پر بھی تحمل کا مظاہرہ کرنے والے ججوں کو آفرین ہے: چودھری شجاعت حسین

فاضل جج چاہیں تو سوٹ پہن کرآنے والے توہین عدالت کے مجرموں کو 6، 6 ماہ کیلئے مچھ جیل بھیج سکتے ہیں تاکہ وہاں سوٹوں میں اگلا موسم انجوائے کریں

لاہور/گجرات(19مارچ2018) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ گالی گلوچ پر بھی تحمل کا مظاہرہ کرنے والے ججوں پر آفرین ہے، فاضل جج صاحبان چاہیں تو اس موسم میں بھی سوٹ پہن کر سپریم کورٹ آنے والے توہین عدالت کے مجرموں کو چھ، چھ ماہ کیلئے مچھ جیل بھیج سکتے ہیں تاکہ وہ وہاں آئندہ مہینوں میں سوٹ پہن کر ہی موسم انجوائے کریں جہاں پنجاب سے بھی زیادہ گرمی پڑتی ہے۔ وہ صدر مسلم لیگ تحصیل سرائے عالمگیر راجہ محمد اسلام ذمہ واریا کے کمیونٹی سنٹر کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر راجہ مظہر ذمہ واریا جنرل سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ فرانس، چودھری شاہد رضا کوٹلہ، چودھری خالد اصغر گھرال، ملک نعیم آف شامپور اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ اپنی پینتالیس سالہ سیاسی زندگی میں فوجی دور بھی دیکھے اور سویلین بھی، اپوزیشن میں رہا اور حکومت میں بھی لیکن ایسا گندا دور نہیں دیکھا جس میں جمہوریت کے نام پر جمہوریت کی مٹی پلید کر رہے ہیں، گالیاں نکالی جا رہی ہیں لیکن آفرین ہے ان ججوں پر جو ابھی تک صبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ اگر کسی کو کرپشن میں سزا ہوئی تو اس کے حق میں کسی نے بھی ہڑتالیں اور ہنگامے نہیں کرنے۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ الیکشن ہوتے نظر تو نہیں آ رہے ہیں کیونکہ حلقہ بندیوں میں کافی گڑبڑ ہوئی ہے اگر الیکشن ہوئے تو کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد ہو یا نہ ہو ہم پوری قوم کے ساتھ لڑیں گے، ہم کوئی اور بات کرنے کے بجائے پہلے پاکستان کی بات کرتے ہیں کیونکہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔

Share