مسلم لیگی ذہن کو اکٹھا کیا جائے جن کی سوچ میں پاکستانیت ہو، ہمیں انہی لوگوں کی ضرورت ہے: چودھری شجاعت حسین

ن لیگی ایم پی اے وجیہہ الزماں پاکستان مسلم لیگ میں شامل، میری کتاب ’’سچ تو یہ ہے‘‘بہت جلد آ رہی ہے

انتخابات میں تاخیر یا بروقت کرانے کا معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس ہے، چیئرمین سینیٹ کے الیکشن بارے وزیراعظم کو غلط فہمی ہوئی: میڈیا سے گفتگو

چودھری شجاعت حسین سے پرانا تعلق ہے، ن لیگ میں بادشاہت ہے، 10سال بعد اپنی جماعت میں واپس آ گیا: وجیہہ الزمان ایم پی اے

لاہور/اسلام آباد(31مارچ2018) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ہمیں اب مسلم لیگوں کو اکٹھا کرنے سے زیادہ مسلم لیگی ذہن کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے جن کی سوچ میں پاکستانیت ہو اور ہمیں انہی لوگوں کی ضرورت ہے۔ وہ اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر مانسہرہ سے ن لیگ کے رکن کے پی کے اسمبلی وجیہہ الزمان کی اپنے ساتھیوں سمیت پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ، سیکرٹری اطلاعات کامل علی آغا، صدر کے پی کے محبوب اللہ جان، اجمل خان وزیر، میاں عمران مسعود اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ’’سچ تو یہ ہے‘‘ کے نام سے میری کتاب بھی بہت جلد مارکیٹ میں آ رہی ہے جس میں صرف سچ لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں سیاسی نظام کا حصہ ہوتی ہیں انہیں ملکی استحکام کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے، علاقائی بنیادوں پر نئی جماعتوں کے قیام سے جہاں صوبوں کو خودمختار بنانے میں مدد ملے گی وہاں یہ بات بھی ضروری ہے کہ یہ جماعتیں ملک کو مضبوط کریں اور پاکستان کیلئے بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان مسلم لیگ ایک ذہن کا نام ہے اس میں سب سے پہلے پاکستانیت آتی ہے، پاکستان مسلم لیگ ہر اس جماعت کی حامی ہے جو مضبوط پاکستان پر یقین رکھتی ہے، وجیہہ الزمان کی پارٹی میں واپسی پر ہم سب ان کو خوش آمدید کہتے ہیں، ان کی فیملی کے ساتھ ہمارے دیرینہ مراسم ہیں، ان کی والدہ محترمہ بطور سینیٹر ہمارے ساتھ کام کر چکی ہیں، مجھے یقین ہے کہ یہ ہماری جماعت کو انشاء اللہ فعال بنانے میں بھرپور محنت اور لگن سے اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ہی ایسی جماعت ہے جس کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس کا نظریہ، سوچ اور ذہن پاکستان کیلئے ہے، لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگیں اکٹھی کریں لیکن ہمیں اب مسلم لیگوں کو اکٹھا کرنے سے زیادہ ضرورت مسلم لیگیوں کو اکٹھا کرنے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کوہستان سے سابق ایم این اے محبوب اللہ جان نے پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی، کوہستان جہاں پر ضروریات کا سامان نہیں پہنچتا اور انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے، ہمیں ایسے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے جن کے سینے میں پاکستان کا درد ہو۔ چودھری شجاعت حسین نے مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ فریادی کے لفظ کو فساد بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگر میں چیف جسٹس سے ملاقات کیلئے جاتا تو اپنے وزرا کو بھی ساتھ لے کر جاتا، چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے بیانات نہیں دئیے جا سکتے، چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں سینیٹرز نہیں بکے وزیراعظم کو غلط فہمی ہوئی ہے، عام انتخابات میں تاخیر یا بروقت ہونے کا معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ آرمی چیف کا 18ویں ترمیم پر کہنا کہ کچھ چیزیں اچھی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کچھ چیزیں اچھی نہیں بھی ہیں۔ وجیہہ الزمان ایم پی اے نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین صاحب سے پرانا تعلق ہے، میں ن لیگ میں گیا لیکن وہاں بادشاہت ہے، 10سال بعد اپنی جماعت میں واپس آ گیا ہوں۔

Share