کوئی ابہام نہیں ہم اور عمران خان 5 سال سے ساتھ ہیں، مل کر دھرنے دئیے الیکشن لڑا: چودھری پرویزالٰہی

وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر کوئی کیس نہیں، قبائلی سردار ہیں، قتل اور دیگر کیسوں میں صلح کرواتے ہیں، جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ دینگے

فارورڈ بلاک کیخلاف ہوں، جمہوری عمل کو روکنا جمہوریت کی خدمت نہیں، 10 سال میں بربادی کر دی، کہتے کچھ کرتے کچھ ہیں: میڈیا سے گفتگو

لاہور(19اگست2018) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ اور پی ٹی آئی میں کوئی ابہام نہیں، ہم، پی ٹی آئی اور عمران خان 5 سال سے ساتھ ہیں، اکٹھے دھرنے دئیے، مل جل کر الیکشن لڑا اور اب مل کر عوام کی خدمت کریں گے، پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ اور ڈپٹی سپیکر کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، کہیں کوئی بے چینی نہیں۔ وہ میڈیا کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزارتِ اعلیٰ کیلئے عثمان احمد بزدار کے کاغذات درست قرار دئیے تھے ان پر کوئی کیس نہیں، ان کا پسماندہ علاقہ سے تعلق ہے، امید ہے وہ جنوبی پنجاب کی ترقی و خوشحالی کیلئے کام کریں گے اور پچھلے 10 سال میں ان کی محرومیوں میں جو اضافہ ہوا ہے اس کو دور کرنے پر خصوصی توجہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شور شرابہ سے کچھ نہیں ہو گا، اپوزیشن ایک طرف جمہوریت کی بات کرتی ہے، جمہوری عمل کو روکنا جمہوریت کی خدمت نہیں، شور شرابہ کرنے والے جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں کر رہے اس سے ان کے اصل کردار کی نشاندہی ہو جاتی ہے کہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ اور ہیں، 10 سال میں انہوں نے بربادی کر دی ہے۔ عمران خان کی 100 دن کی کارکردگی کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ابھی ایک دن ہوا ہے وہ انشاء اللہ اپنے پلان پر بخوبی عمل کر کے دکھائیں گے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے بارے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی متنازعہ شخصیت نہیں اپنے قبیلہ کے سردار قتل اور دوسرے کیسز میں بھی فریقین میں سردار ہی صلح کرواتے ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ میں فارورڈ بلاک کے خلاف ہوں۔ وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے اجلاس سے قبل سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی جانب سے تمام ارکان اسمبلی کے اعزاز میں پرتکلف ناشتہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ چودھری پرویزالٰہی نے بعد ازاں ایک سوال پر کہا کہ شور شرابے کا میڈیا خود تجزیہ کرے، وزیراعلیٰ کا الیکشن ہو گیا، تقریریں بھی ہو گئیں، وزیراعلیٰ تو وزیراعلیٰ ہوتا ہے سپیکر کا رول سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے اور ہم انشاء اللہ ایسا ہی کریں گے، اپوزیشن لیڈر کیلئے کاغذات مانگ لیے گئے ہیں۔ ایوان میں ارکان اسمبلی کی تعداد کے مطابق گنجائش نہ ہونے پر ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 10 سال میں نئی عمارت مکمل نہیں کی فی الحال اسی میں گزارا کرنا ہوگا۔

Share