پنجاب اسمبلی بلڈنگ کی لاگت میں 3 ارب روپے اضافہ کے ذمہ دار شہبازشریف ہیں، اگلا بجٹ اجلاس انشاء اللہ نئی عمارت میں ہو گا

چودھری پرویزالٰہی اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی پنجاب اسمبلی کی زیرتعمیر بلڈنگ کے دورہ کے موقع پر گفتگو، احاطہ میں پودا بھی لگایا گیا

لاہور(06ستمبر2018) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار نے پنجاب اسمبلی کی زیرتعمیر بلڈنگ کا دورہ کیا اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ اور تعمیراتی کام کرنے والے دیگر اداروں کے افسروں کو جلد از جلد بلڈنگ مکمل کرنے کی ہدایات دیں۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی نئی بلڈنگ کی لاگت میں 3 ارب روپے اضافہ کے ذمہ دار شہبازشریف ہیں، تعمیراتی کام کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال بجٹ اجلاس انشاء اللہ نئی بلڈنگ میں منعقد ہو گا، 12 سال سے زائد عرصہ میں بھی بلڈنگ تعمیر نہ ہونا افسوسناک ہے، مزید تاخیر اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، بلڈنگ کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ بلڈنگ میں تاخیر کے ذمہ دار سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف ہیں اضافی اخراجات ان سے وصول کئے جانے چاہئیں۔ قبل ازیں سپیکر اور وزیراعلیٰ نے وزیراعظم عمران خان کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے نئی بلڈنگ کے احاطہ میں پودا لگا کر شجرکاری کا آغاز کیا۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ شہبازشریف نے پنجاب اسمبلی کو بھی ہمارا قائم کردہ ہسپتال سمجھ کر 10 سال تک فنڈز نہیں دئیے جبکہ تمام ارکان نے عطیات سے جو مسجد بنائی تھی اس کے پیسے بھی روک لیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے ہمارے دور میں قائم کردہ سیرت اکیڈمی اور قرآن پاک کے اوراق کی ری سائیکلنگ کے منصوبے بھی مکمل کرنے کا کہا ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ قرآن پاک کے ضعیف اوراق سے دوبارہ قرآن پاک شائع کر کے مدرسوں کو فری دینے اور حکمرانوں و سیاستدانوں اور عوام کی حیات صحابہ کرام کے اصولوں کی روشنی میں رہنمائی کیلئے سیرت اکیڈمی کے منصوبے شروع کئے گئے تھے۔ بلڈنگ کے دورہ کے موقع پر سینئر سیکرٹری اسمبلی رائے ممتاز بابر، قائم مقام سیکرٹری عنایت اللہ لک، سپیشل سیکرٹری C&W میاں ابرار احمد، ممبر P&D ڈاکٹر محمد عابد بودلہ، پرنسپل نیشنل کالج آف آرٹس، پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری، وائس پریزیڈنٹ نیسپاک محمد ابرار اے خاں اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسر بھی موجود تھے۔

Share