آئی آر آئی جیسے تربیتی ادارے پاکستان کے سیاسی کلچر میں تبدیلی کا باعث ہیں: چودھری شجاعت حسین، پرویزالٰہی

تین ہزار سے زائد مسلم لیگی کارکن تربیت حاصل کر چکے ہیں، نائب صدر انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹیٹیوٹ کی قیادت میں امریکی وفد کی ملاقات

اسلام آباد/لاہور(12ستمبر2018) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ پاکستان کے سیاسی کلچر میں نمایاں تبدیلی میں انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹیٹیوٹ (IRI) جیسے تربیتی اداروں کا ہاتھ ہے۔ آئی آر آئی کے امریکہ سے آئے وفد سے گفتگو کرتے مسلم لیگی قائدین کا کہنا تھا کہ اس ادارہ نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو داخلی جمہوریت اور ریسرچ کے جدید تقاضوں سے ہمکنار کیا ہے۔ یو ایس ایڈ کے تحت پاکستان میں کام کرنے والی امریکی سیاسی تنظیم آئی آر آئی کے وفد کی ملاقات میں مسز فرخ خان ایم این اے، رضوان ممتاز علی، رانا خالد بھی موجود تھے جبکہ وفد میں تنظیم کے نائب صدر سکاٹ میسٹک (Scott Mastic)، سینئر پروگرام منیجر میتھیو کارٹر (Metthew Carter) اور سینئر پروگرام آفیسر جنید آفتاب بھی شامل تھے۔ مسلم لیگی قائدین نے کہا کہ آئی آر آئی کے سیاسی کارکنوں کیلئے 2002ء سے تربیتی عمل پاکستان کے سیاسی کلچر میں ایک خوش آئند تبدیلی کا باعث رہا ہے، ہماری جماعت تمام این جی اوز کے سیاسی تربیت کے ایسے پروگراموں کی اہمیت سے آگاہ ہے، یہی وجہ ہے کہ آئی آر آئی سے پاکستان مسلم لیگ کے تین ہزار سے زائد کارکنوں نے مختلف امور پر سیاسی تربیت حاصل کی ہے، اس طرح پارٹی میں خواتین اور نوجوانوں کو فعال کردار ادا کرنے کے مزید مواقع حاصل ہوں گے۔ ملاقات کے دوران چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویزالٰہی نے ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر جان مکین کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ آنجہانی کی پاکستان کیلئے دوستی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Share