نواز، شہباز کے خلاف کیس عمران خان، وزیر اعلیٰ اور سپیکر نے نہیں بلکہ نیب نے بنائے: چودھری پرویزالٰہی

توڑ پھوڑ کے نقصان کا ازالہ ذمہ دار ارکان سے کروایا جائے گا، سپیکر اور ارکانِ اسمبلی کے خلاف نازیبا کلمات کی وجہ تربیت کی کمی ہے

ایوان کی عزت ہر صورت قائم رکھوں گا، اپوزیشن لیڈر بے ہودہ زبان استعمال کر رہے ہیں جو ان کی تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے

ن لیگ کے دور میں چار مرتبہ اپوزیشن ارکان کی رکنیت معطل کی گئی: سپیکر پنجاب اسمبلی کی اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو

لاہور(23اکتوبر2018) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہاہے کہ ایوان میں آئین اور قانون سے بالا تر کسی عمل کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ایوان کے وقار کو قائم رکھنا سپیکر کی ذمہ داری ہے، ماضی میں کسی اپوزیشن لیڈر نے سپیکر کے بارے میں ایسی بے ہودہ زبان استعمال نہیں کی جو موجودہ اپوزیشن لیڈر کر رہے ہیں، یہ نہ سوچتے ہیں نہ سمجھتے ہیں، سپیکر اور ارکان اسمبلی کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال تربیت میں کمی ہے، اپوزیشن کے اپنے دور حکومت میں انکے اپنے سپیکر نے چار مرتبہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل کی جبکہ پی ٹی آئی کے ارکان نے کبھی سپیکر کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے اور نہ ہی توڑ پھوڑ کی۔ وہ اسمبلی اجلاس سے پہلے احاطہ اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ایوان میں ہنگامہ کرنے والے ارکان کی تعداد 12 ہے تاہم ابھی چھ کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، ایوان کی سپیشل کمیٹی 16 اکتوبرکو ایوان میں فرنیچر، مائیک اور ریکارڈنگ کے دیگر آلات کی توڑ پھوڑ کے تخمینہ کیلئے بنائی گئی ہے، نقصان کے ذمہ دار ارکان سے ازالہ کروایا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز، شہبازشریف کے خلاف کیس عمران خان، وزیر اعلیٰ اور سپیکر نے نہیں بلکہ نیب نے بنائے ہیں، نیب نے ان کے خلاف جو ایکشن لیا پنجاب اسمبلی یا حکومت کے وزراء کا اس سے کوئی تعلق نہیں لہٰذا پنجاب اسمبلی میں ان کا ہنگامہ سمجھ سے با لا تر ہے۔

Share