وزیراعظم کو کامیاب دورۂ سعودی عرب پر خراج تحسین، پنجاب کو مثالی صوبہ بنانے کیلئے وزیراعلیٰ کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہئے: چودھری پرویزالٰہی

کسانوں کیلئے بجلی کے بل میں 50 فیصد تعاون وزیراعظم عمران خان کا احسن اقدام ہے، عوام کا پیسہ برباد کرنے والوں کے بارے میں ایوان کی خصوصی کمیٹی بنا دی ہے: ایوان میں خطاب اور میڈیا سے گفتگو

لاہور(25اکتوبر2018) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا کامیاب دورۂ سعودی عرب قابل تحسین ہے جس پر انہیں ہدیہ تحسین کرتے ہیں۔ انہوں نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے مشکور ہیں کہ انہوں نے پنجاب کو متوسط گھرانے سے وزیراعلیٰ دیا ہم سب کو وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہئے تاکہ پنجاب کو مثالی صوبہ بنایا جا سکے، کسانوں کیلئے بجلی کے بل میں وزیراعظم کی طرف سے 50 فیصد کا تعاون احسن اقدام ہے، آج تک کسی وزیراعظم نے کسانوں کیلئے اس طرح کا پیکیج نہیں دیا، 2002ء سے 2008ء تک جب ہماری حکومت تھی کسانوں کا بجلی کا آدھا بل حکومت پنجاب ادا کرتی تھی، وزیراعظم نے یہ پیکیج سارے پاکستان کیلئے کر دیا ہے، ان کے دل میں غریبوں کیلئے ہمدردی ہے، ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو عوامی خدمت کے مشن میں کامیاب فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ وزیراعظم کے نامزد وزیراعلیٰ کا بھرپور ساتھ دیں، مجھے پتہ ہے کہ وہ بھی پنجاب کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ سپیکر نے وزیراعلیٰ پنجاب کو مالی مشکلات کے باوجود عوام دوست اور متوازن بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دی اور بجٹ اجلاس میں ارکان اسمبلی کے بھرپور طریقے سے حصہ لینے کو سراہا۔ چودھری پرویزالٰہی نے اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف نے اپنی نالائقی، تعصب، عوام دشمنی اور منتقم مزاجی کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کا پیسہ برباد کیا، ہمارے دور کے ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پائے، تعلیمی شعبہ کا برا حال کر دیا، ہماری حکومت میں 40 نئے کالج اور ڈینٹل یونیورسٹی تیار ہو ہی تھی ان کو بند کر دیا گیا، ہسپتالوں کی تعمیر روک کر مریضوں سے زیادتی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کی سپیشل کمیٹی ان منصوبوں میں تاخیر کی وجوہات کو دیانتداری سے دیکھے گی اور عوام کا پیسہ برباد کرنے والوں پر ذمہ داری فکس کرے گی اور ایوان میں رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تعصب کی نذر ہونے والے منصوبوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا اور اضافہ کے ذمہ داروں سے ان کی لاگت وصول کی جائے گی، جب میں نے بطور وزیراعلیٰ حکومت سنبھالی تو خزانہ خالی تھا، میں نے محنت کی اور عوام کے پیسے کی حفاظت کی، حکمران کی نیت اچھی ہو تو اللہ تعالیٰ بھی مدد کرتا ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ بجٹ تقریر کے دوران ہنگامہ کرنے والے چھ ارکان کی رکنیت معطل نہیں کی بلکہ رواں اجلاس میں ایوان میں داخلہ پر پابندی لگائی۔ اپوزیشن کے غیرجمہوری اور غیردانشمندانہ رویہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماں باپ تو بچوں کو اچھی تعلیم و تربیت دیتے ہیں اگر بچہ تہذیب کے دائرے میں رہے تو ماں باپ کو فائدہ پہنچتا ہے اور بچے کو بھی، بہرحال کیونکہ یہ ہمارے بچوں کی طرح ہیں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ان بچوں کو جو وہ غلط کر رہے ہیں اس کی نشاندہی کریں۔ اس سوال کے جواب میں کہ اپوزیشن کہتی ہے سپیکر نیشنل اسمبلی اور پرویزالٰہی صاحب کا رویہ مختلف ہے تو انہوں نے کہا کہ احتجاج اپوزیشن کا حق ہے مگر نیشنل اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کا فرق دیکھیں کہ وہا ں اجلاس میں شور ضرور ہوا تھا لیکن کسی نے کسی کا گلا نہیں پکڑا تھا نہ سپیکر اور ارکان اسمبلی کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی گئی، یہاں پر اپوزیشن نے سپیکر کے الیکشن کے بعد ہنگامہ کیا، وزیراعلیٰ کے الیکشن میں شور مچایا اور بجٹ تقریر کے دوران تو انتہا کر دی، سپیکر کے خلاف گندی زبان استعمال کی، حمزہ شہباز کے ایما پر چیئر پر حملہ آور ہوئے، اسمبلی سٹاف کو گریبانوں سے پکڑا، مائیک توڑ د یے، فرنیچر اور دیگر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ سپیکر نے کہا کہ ایوان کو رولز کے مطابق چلانا اور ماحول کو درست رکھنا بطور سپیکر میری ذمہ داری ہے اور میں اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھوں گا۔

Share