ہمارے بنائے ہسپتال بھی چالو نہ کرنے والے پنجاب اسمبلی کی عمارت کیسے مکمل کرتے: چودھری پرویزالٰہی سے سپیکر خیبرپختونخواہ کی ملاقات

سندھ اور کے پی کے اسمبلیاں نئی عمارتوں میں کام کر رہی ہیں، آپ پرانی عمارت میں اتنے زیادہ ارکان کا اجلاس کیسے کرتے ہیں: مشتاق غنی

شہبازشریف نے ہر اس منصوبہ پر کام بند کرا دیا تھا جہاں میرے نام کی تختی لگی تھی، انہوں نے عوام کی بہتری پر اپنے انتقام کو ترجیح دی: سپیکر پنجاب

لاہور(05نومبر2018) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے خیبرپختونخواہ اسمبلی کے سپیکر مشتاق احمد غنی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ شہبازشریف میرے دور کی پنجاب اسمبلی کے کیسے مکمل کراتے جبکہ انہوں نے میری وزارتِ اعلیٰ کے دور میں بنائے گئے ہسپتال، تعلیمی ادارے، عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کے دیگر ادارے بھی اپریشنل نہیں ہونے دئیے، انہوں نے ہر اس منصوبے پر کام بند کرا دیا اور چالو نہیں ہونے دیا جس پر وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی کے نام کی تختی لگی تھی۔ سپیکر مشتاق احمد غنی کے دورۂ پنجاب اسمبلی کے دوران نئی زیر تعمیر عمارت کا بھی دورہ کیا۔ سپیکر کے پی کے اسمبلی نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ اسمبلی کی پرانی عمارت میں جگہ نہ ہونے کے باجود آپ اتے زیادہ ارکان کا اجلاس کیسے منعقد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور کے پی کے اسمبلی کی نئی عمارتیں مکمل ہو چکی ہیں اور ان میں اجلاس کئے جاتے ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت کی تعمیر کا یہ شاندار منصوبہ اتنے سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے چودھری پرویزالٰہی کے دور کے عوامی فلاح کے منصوبوں کی تعریف کی جن میں ریسکیو سروس 1122 اور ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں فری ادویات کی فراہمی شامل ہے۔ انہوں نے ارکان اسمبلی کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے بھی ان کی کوششوں کو سراہا۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم نے بھی 2005ء میں نئی عمارت کی تعمیر شروع کر دی تھی لیکن ہمارے بعد اس پر کام روک دیا گیا اب پھر ان کی نگرانی میں تیزی سے کام جاری ہے اور انشاء اللہ اگلے سال نئی عمارت میں اجلاس منعقد ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہبازشریف نے ہمیشہ اپنے انتقامی مزاج اور جھوٹی انا کو ہر بات پر ترجیح دی ہے یہی وجہ ہے کہ میری حکومت میں بنائے گئے کارڈیالوجی ہسپتال، برن سنٹر اور ایمرجنسی بلاک چالو نہ ہونے سے کتنے ہی افراد بروقت ضروری علاج نہ ہونے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر سردار دوت محمد مزاری، سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی کے علاوہ دیگر حکام موجود تھے۔

 

Share