پارٹی اور اتحادی رہنماؤں کی میٹنگز میں گلے شکوے معمول ہیں، چودھری سرور سے بہت اچھے تعلقات ہیں: چودھری پرویزالٰہی

جہانگیر ترین سے ملاقات میں طارق بشیر چیمہ نے اپنا گلہ کیا، ارکان اسمبلی کو میٹنگز میں اپنی شکایات سامنے لانے کا حق ہے: میڈیا سے گفتگو

لاہور(10نومبر2018) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ گورنر پنجاب چودھری سرور سے ان کے دیرینہ اور بہت اچھے تعلقات ہیں، کسی بھی پارٹی اور اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگز میں گلے شکوے معمول کی بات ہے، میری چودھری سرور سے بات بھی ہوئی ہے، ان کا کہنا تھا کہ طارق بشیر چیمہ کھرے آدمی ہیں اور کھل کر بات کرتے ہیں۔ وہ یہاں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر بھی موجود تھے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی سے ہمارا اتحاد احسن طور پر چل رہا ہے، جہانگیر ترین سے ملاقات میں سینیٹ الیکشن کے حوالے سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ نے اپنے انتخابی حلقہ میں مداخلت کے حوالہ سے دیرینہ گلہ کا اظہار کیا اور گھر میں بیٹھ کر اپنے اتحادی رہنما سے یہ شکوہ کوئی ایسی غیرمعمولی بات نہیں تھی جس کو ایشو بنانے کی کوشش کی گئی، میٹنگ کی اندرونی بات کو اس طرح نہیں اچھالنا چاہئے کیونکہ پارٹی میٹنگز میں ارکان اسمبلی کھل کر اپنی شکایات اور مسائل کا اظہار کرتے ہیں جن کو پارٹی قیادت کی جانب سے حل بھی کیا جاتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو اس کا اثر سیکرٹ بیلٹ پر پڑتا ہے، الیکشن سے پہلے ووٹروں کی جانب سے گلے شکوے ہم سے بھی کئے جاتے ہیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ گورنر چودھری سرور اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار دونوں کو پی ٹی آئی کے سربراہ وزیراعظم عمران خان نے نامزد کیا ہے، ان سے ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں، سیاسی جماعتوں اور اتحادیوں میں گلے شکوے اور تحفظات ہوتے ہیں جو دور بھی ہوتے رہتے ہیں، ہم وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا نیک نیتی سے اور بھرپور ساتھ دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار بہت اچھا کام کر رہے ہیں، ہمارے اور پی ٹی آئی کے ارکان ان کا مکمل ساتھ دے رہے ہیں۔ حمزہ شہباز کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمیں اپوزیشن کو مشترکہ طور پر فیس کرنا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے آج کی میٹنگ کے حوالے سے کہا کہ پنجاب میں دس سال سناٹا رہاہے کسی کو حکمران جماعت کی میٹنگز میں گلے شکوے تو کیا بات کرنے کی بھی جرأت نہیں ہوتی تھی کیونکہ شہبازشریف کے مائنڈ کرنے پر پولیس اختلاف کرنے والے کے گھر پہنچ جاتی تھی لیکن ہم نے ہمیشہ اپنے ووٹروں اور ساتھیوں کے ہر گلہ شکوہ اور تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا ہے۔

Share