عالمی برادری 71 سال کی تلافی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے فوری حل میں مدد کرے: چودھری شجاعت حسین، پرویزالٰہی

کشمیریوں پر بھارتی ظلم و جبر کی انتہا ہو گئی، پاکستان مسلم لیگ برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کانفرنس، وزیراعظم ناروے اور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے بیانات کا خیر مقدم کرتی ہے

لاہور(04فروری2019) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کشمیریوں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حق خود ارادیت کیلئے ان کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی 71 سالہ جدوجہد کا عالمی برادری کو اعتراف کرتے ہوئے ان کے ساتھ اس طویل عرصہ میں ہونے والے بھارتی ظلم و ستم اور زیادتیوں کا راستہ روکنے اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کرنے کی تلافی کیلئے اس مسئلہ کے فوری اور دیرپا حل کیلئے مدد کرنی چاہئے۔ پاکستان مسلم لیگ کے قائدین نے یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے پیغامات میں کہاکہ ان کی جماعت نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو مقدم رکھا اور ان پر مظالم کے خلاف اور ان کے حقوق کیلئے آواز بلند کی ہے۔ صدر پاکستان مسلم لیگ چودھری شجاعت حسین نے ماضی میں بھارت کے خصوصی دورہ کے دوران کشمیری رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے کشمیر میں بھارتی مظالم، لائن آف کنٹرول پھر بھارتی جارحانہ کارروائیوں میں اضافے اور حالیہ دنوں میں وسیع پیمانہ پر کشمیری حریت رہنماؤں کی گرفتاری کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ دنیا نے مسئلہ کشمیر پر سنجیدگی سے توجہ دینا شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کانفرنس کا خیر مقدم کرتے ہیں جبکہ ناروے کی وزیراعظم نے بھی ثالثی کی پیشکش کی ہے اور اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل نے مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے۔ مسلم لیگی رہنماؤں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام یو این او میں کئے گئے بھارتی وعدوں پر عملدرآمد چاہتے ہیں اور اس کیلئے ان کی جدوجہد اور قربانیوں میں روز بروز تیزی آتی جا رہی ہے، حق خود ارادیت کے مسلمہ پیدائشی حقوق کے حصول کیلئے کشمیریوں نے جو عظیم قربانیاں دی ہیں وہ رائیگاں نہیں جائیں گی، برصغیر کی تقسیم کے ایجنڈا کی تکمیل کیلئے پاکستان مسلم لیگ ان کا ساتھ دیتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مسلح افواج انہیں حق خود ارادیت دینے کی بجائے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کا ہر ہتھکنڈہ استعمال کر رہی ہیں، بنیادی انسانی حقوق کی کھلم کھلا دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، خواتین، بچوں اور بزرگوں پر ہر قسم کا جبر و تشدد انتہا کو پہنچ چکا ہے تاکہ کشمیری عوام کی آواز کو دبایا جا سکے لیکن وہ بھارتی چنگل سے آزادی کے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف پاکستان اور بھارت کے مابین دیرپا قریبی تعلقات بلکہ خطہ میں امن کا دارومدار بھی اس دیرینہ تنازعہ کے منصفانہ اور پرامن حل پر ہے، دنیا بھر کے جمہوریت اور امن پسند لوگوں کو مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ظلم و تشدد سے بچانے کیلئے وہاں سے بھارتی فوجوں کے انخلا کا پرزور مطالبہ کرنا چاہئے۔

Share