مسئلہ کشمیر کو پہلی بار دنیا کے بڑے ممالک نے اہمیت دی: چودھری شجاعت حسین

عمران خان کی دانشمندی سے مودی اور ہندوستانی عوام جدا ہو چکے، اپنے الیکشن اور ذاتی مفادات کی خاطر مودی ملک کو داؤ پر لگا رہے ہیں

پاکستانی وزیر خارجہ کو او آئی سی اجلاس میں شرکت کرنی چاہئے تھی، اپنا موقف بیان کرتے، کسی دوست ملک نے پاکستان کی حمایت نہیں کی اب واویلا فضول ہے

لاہور(02مارچ2019) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ مودی اور ہندوستانی عوام جدا ہو چکے ہیں، ہندوستانی عوام کو یہ باور ہو چکا ہے کہ مودی فوج کو اپنے الیکشن اور ذاتی مفادات کی خاطر ملک کو داؤ پر لگا رہا ہے، دونوں طرف کے ہزاروں بے گناہ لوگوں کو مروا کر ہی ان کی تسلی ہو گی، اب یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ مودی اور ہندوستانی عوام علیحدہ علیحدہ ہیں، وزیراعظم عمران خان نے بڑی دانشمندی کے ساتھ اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پہلی بار دنیا کی نظروں میں اس طریقے سے اجاگر ہوا ہے کہ دنیا کے تمام بڑے ممالک نے مسئلہ کشمیر کو اہمیت دی ہے، او آئی سی کے ساتھ ہمارا بڑا پرانا تعلق ہے بھارت کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے کا فیصلہ اس حالیہ واقعہ سے بہت پہلے ہو چکا تھا، جب بھارت کو او آئی سی میں شرکت کی دعوت دی گئی ہمیں اسی وقت اس پر اعتراض کرنا چاہئے تھا اب تو دوست ممالک نے بھی پاکستان کی حمایت نہیں کی۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو چاہئے تھا کہ وہ او آئی سی اجلاس میں جاتے اور 57 میں سے 7 ارکان کو بھی منا لیتے تو ہم اسے بڑی کامیابی سمجھتے، اجلاس میں شرکت کر کے ہم اپنا موقف بیان کرتے کہ بھارت کو اس فورم میں نہ بلائیں، یہ کانفرنس بھی ہمارے دوست ملک میں ہو رہی ہے کسی ایک بھی دوست ملک نے سشما سوراج کو روکنے کیلئے پاکستانی موقف کی حمایت نہیں کی اب واویلا فضول ہے۔

Share