ہندو برادری کے بارے میں بیان پر عمران خان کا اقدام قابل تعریف ہے: چودھری شجاعت حسین

ہم نے پاکستان میں بسنے والے دیگر مذاہب کے لوگوں کے حقوق و جذبات کا ہمیشہ خیال رکھا ہے اور کٹاس راج کی بحالی جیسے منصوبے شروع کئے جس کا اعتراف ایل کے ایڈوانی نے بھی کیا

اسلام آباد/لاہور(06مارچ2019) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے فیاض الحسن چوہان کے ہندو برادری کے بارے میں بیان پر عمران خان کے فوری اقدام کو سراہا ہے۔ انہوں نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہاکہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اس وقت جو حالات چل رہے ہیں ان میں پاکستان میں بسنے والے ہندوؤں کے حقوق و جذبات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے ایک سوال پر کہا کہ ہم نے اپنے دور میں اقلیتوں کے حقوق کا نہ صرف ہمیشہ خیال رکھا بلکہ کوشش کی کہ ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے ان کی دل آزاری نہ ہو اور انہیں خوشحالی و ترقی کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم ہوں، اقلیتوں باالخصوص ہندوؤں کے مذہب و مقامات کی بحالی پر توجہ دی اور ہم نے اپنی حکومت میں کٹاس راج بحالی جیسے منصوبے شروع کئے جو ہندوؤں کا دوسرا بڑا مقدس مقام ہے جس کا اعتراف بھارت کے سابق نائب وزیراعظم ایل کے ایڈوانی نے اپنی کتاب میں بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والے دیگر مذاہب کے لوگوں کو مکمل آزادی، خودمختاری اور حقوق حاصل ہیں جن کی ضمانت نہ صرف اسلام بلکہ پاکستان کے آئین میں بھی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں نے ملک پر آنے والے ہر مشکل وقت میں اپنے مسلمان بھائیوں کے شانہ بشانہ صورتحال کا مقابلہ کیا ہے اور ہمیں ایک دوسرے پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیاض الحسن چوہان کو اتنا غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دینا چاہئے تھا۔

Share