ہم نے پنجاب میں وہ کام کئے جو کبھی نہیں ہوئے، کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی: سپیکر چودھری پرویزالٰہی

آئی ایم ایف کا پروگرام ختم کیا، جی ڈی پی، گروتھ ریٹ 8 فیصد کیا لیکن ہمارے اچھے کام آگے لے جانے کی بجائے روک دئیے گئے

ہر ایک کو اس کا جائز حق دیا، اپوزیشن لیڈر کو جواب، جناب سپیکر موجودہ حکومت کو آپ کے تجربہ سے سیکھنا چاہئے تھا: حمزہ شہباز

لاہور(11مارچ2019) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ ہم نے پنجاب میں اپنی 5 سالہ حکومت کے دوران وہ کام کئے جو پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے، کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی لیکن ہمارے اتنے اچھے کاموں کو آگے بڑھانے کی بجائے روک دیا گیا۔ چودھری پرویزالٰہی نے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہبازشریف کے اظہار خیال کے بعد کہا کہ وزیر خزانہ 6 ماہ کی کارکردگی بتائیں گے لیکن میں پہلے بتا دوں کہ 2002ء سے 2007ء تک جب میں چیف منسٹر تھا تو اس وقت بھی یہی حالات تھے، ہم نے پچھلی حکومت کا رونا روئے بغیر آئی ایم ایف کا پورا پروگرام اس طرح ختم کیا تھا کہ ایک پیسہ باقی نہیں بچا تھا اور سب کچھ ان کو واپس دے دیا گیا، ایوان میں سپیکر کے خطاب کے دوران بار بار نعرہ ہائے تحسین بلند ہوتے رہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم نے 32ہزار کلو میٹر طویل انٹر سٹی اور فارم ٹو مارکیٹ سڑکیں بنائیں، اس وقت ہمارا جی ڈی پی گروتھ ریٹ 8 فیصد پر گیا تھا، ہم نے ساتھ یہ بھی کیا کہ کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کے بغیر ایسے کام کئے جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے، کسی کا بزنس بند کئے بغیر ہم نے کوشش کی کہ ہر ایک کو اس کا جائز حق دیا جائے، پہلی بار کسانوں کیلئے 600 کلومیٹر پکے کھالے بنائے، زرعی ٹیوب ویلوں کے بجلی کے بل کا 50 فیصد حکومت دیتی تھی جو کہ پہلے یا بعد میں کبھی نہیں ہوا، ٹریفک وارڈنز سے لے کر کرائم ریٹ کو کم کرنے کیلئے پٹرولنگ پوسٹیں بنائیں، ہمارے بعد اس میں پھر خرابی آئی، یہ پوسٹیں 500 بننا تھیں لیکن 350 سے آگے نہیں بنیں، ہماری دوسری چیزیں جنہیں بہتر طریقے سے آگے لے جایا جا سکتا تھا لیکن نہیں لے جایا گیا اگر ساری پٹرولنگ پوسٹیں بن جاتیں تو ’’چھوٹو گینگ‘‘ نہیں پیدا ہونا تھا اور پولیس کی کارکردگی جس طرح سامنے آئی کم از کم وہ بھی بچائی جا سکتی تھی کیونکہ ہمارا ذاتی پراجیکٹ نہیں تھا بلکہ وہ صرف لاء اینڈ آرڈر کے حوالے سے تھا، ہم نے تونسہ بیراج پر بحالی کا کام شروع کیا تھا جس کے اوپر 100 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش تھی لیکن پچھلے دس سال میں مکمل نہیں ہوا اور آپ چاہتے تو دس سال میں کم از کم ایک بیراج بنا سکتے تھے جس سے بہت فائدہ ہوتا، ہم نے پانچ سال میں نہروں کی لائننگ شروع کی جسے آگے بڑھایا جا سکتا تھا، ہمارے دور میں ہی 98% فنڈز کا استعمال جو کہ پنجاب کی تاریخ میں سب سے بلند شرح تھی، پہلی دفعہ تاریخ میں میٹرک تک تعلیم مفت کی گئی اور کتابیں بھی مفت دی گئیں، جنوبی پنجاب میں وظیفہ دینا شروع کیا جس کا پہلے کبھی کسی کو خیال نہیں آیا، انرجی پالیسی بنائی گئی ، توانائی کے منصوبوں کے تحت نہروں پر چھوٹے چھوٹے یونٹ لگ رہے تھے جن سے کم از کم دو اڑھائی سو میگا واٹ بجلی پیدا ہونا تھی، سارا کچھ ہو گیا ٹینڈرز بھی ہو گئے تھے جو کہ سارے منسوخ کر دئیے گئے اور اس کے بعد کچھ نہیں ہوا، کم از کم ان چیزوں کو آگے بڑھاتے تو فائدہ آپ کی حکومت کو ہونا تھا لیکن ہمارے پانچ سال میں جو ہوا اگلے دس سال میں میری نظر میں اس سے زیادہ بہتر ہو سکتا تھا جو کہ نہیں ہو سکا، آپ نے کڈنی لیور ٹرانسپلانٹ سے متعلق بات کی تو اس کا بل بھی ابھی پیش ہوا ہے جس پر میں نے راجہ بشارت صاحب اور وزیر صحت سے یہی بات کی ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کریں اور ان کی بہتر تجاویز کو اس بل میں شامل کریں۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کے جواب میں مزید کہا کہ یہ کام جو ہم نے پانچ سالوں میں کئے ہیں آپ صرف فالو ہی کرتے رہتے تو بہت کچھ ہو سکتا تھا، غریبوں کے بچے تک ان 64ہزار سکولوں میں جاتے جن میں سے 10 ہزار سکول شہبازشریف صاحب بند نہ کرتے بلکہ اور بڑھاتے، ہم نے ورلڈ بینک کے تعاون سے ایجوکیشن فاؤنڈیشن بنائی تھی جسے اور آگے بے جانے کی ضرورت تھی اس کے ذریعے بہت کام ہو رہا ہے اور ہم نے وہاں پر جو بندے لگائے وہ مکمل طور پر بااختیار تھے جو کہ بعد میں سٹیٹ بینک کے گورنر بھی بنے تو اس میں ہمارا کوئی ذاتی کسی کے ساتھ نہیں تھا، چودھری اقبال صاحب بیٹھے ہیں جو ہمارے وزیر صحت تھے اور ہم نے ہیلتھ سیکٹر میں ہر جگہ پر ڈاکٹرز بھی پہنچائے اور ادویات بھی مفت فراہم کیں اس حوالے سے میو ہسپتال میں باقاعدہ سپیکر پر اناؤنسٹمنٹ ہوئی تھی، میں نے 450 بستروں کا میو ہسپتال میں سرجیکل ٹاور بنایا تھا جس میں 11 آپریشن تھیٹرز تھے، یہ تو بیگم کلثوم نواز صاحبہ اور نوازشریف صاحب کا گوالمنڈی کا حلقہ تھا اس کو تو نہیں بند کرنا چاہئے تھا بلکہ جب چیف جسٹس صاحب آئے تو انہوں نے آ کر چلایا، کارڈیالوجی ہسپتال میں نے گجرات نہیں وزیرآباد میں بنایا جو کہ گوجرانوالہ ڈویژن کیلئے تھا، اردگرد ساری سڑکیں بنا دیں تاکہ مریض وہاں آ سکیں اس کو بھی بند کرنے کی ضرورت نہیں تھی میری تختی کو اکھاڑ کر اپنی تختی لگا لیتے، آپ کو اندازہ نہیں ہے صرف اس ہسپتال کو چالو نہ کر کے کتنے مریضوں کی وفات ہوئی ہے حالانکہ آپ کی مریضوں سے تو دشمنی نہیں سیاسی طور پر مجھ سے ہو سکتی ہے کسی اور سے ہو سکتی ہے اسی طرح اسمبلی بلڈنگ کا معاملہ آپ سب کے سامنے ہے، ہمارا یہاں جو بیٹھنے کا حال ہے وہ آپ کے سامنے ہے اپوزیشن والے بھی بیٹھے ہیں آپ نے دیکھا ہے کہ وہ اسمبلی بلڈنگ سٹیٹ آف دی آرٹ تھی، آپ اپنے دور میں اس کو مکمل کرتے تو آپ کر کریڈٹ جاتا، دیکھیں ہم کبھی معزز ممبرران کو اوپر گیلری میں بٹھاتے ہیں پھر ہمیں کہتے ہیں ہمیں اوپر کیوں بٹھایا تو یہ ساری چیزیں لمحہ فکریہ ہے اس سے سیکھنے کی ضرورت ہے تو میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں نے جو کہا ہے آپ اسے دل پر نہ لیں میں حقائق کی بات کر رہا ہوں۔ قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ جناب سپیکر میں نے آپ کی ساری باتیں بڑے مثبت انداز میں سنی ہیں میں نے یہاں پر 1122 کا ذکر دوسری مرتبہ کیا ہے، میں آپ سے گزارش کر رہا ہوں کہ یہی صحت مند ڈسکشن، یہی ہمت، حوصلہ ادھر حکومتی بینچز میں بھی ہونا چاہئے، ایک دوسرے سے سیکھنا چاہئے، اسی طرح قائداعظمؒ کا پاکستان روشن ہو گا لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ اگر آٹھ مہینے میں آپ کا تجربہ انہوں نے محسوس کیا ہوتا تو آج آٹھ ماہ میں صوبے کی یہ حالت نہ ہوتی۔

Share