دہشت گردی عفریت کے خاتمے اور ریاست کی بقا و سلامتی کیلئے فوجی عدالتیں ضروری ہیں: چودھری شجاعت حسین

آصف زرداری، نوازشریف، مولانا فضل الرحمن سمیت تمام لیڈروں نے نیشنل ایکشن پلان پر دستخط کئے تھے، قومی یکجہتی کیلئے یکساں قومی تعلیمی نصاب کی ضرورت ہے

اسلام آباد/لاہور(یکم اپریل2019) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہاہے کہ دہشت گردی عفریت کے مکمل خاتمے، ریاست کی بقا اور سلامتی کیلئے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر کوئی تنازع نہیں کیونکہ نیشنل ایکشن پلان پرمجھ سمیت، آصف علی زرداری، میاں نواز شریف، مولانا فضل الرحمن اور دیگر پارٹی سربراہوں نے دستخط کئے تھے۔ پیر کو اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے یاد دلایا کہ 24 دسمبر 2014ء کو کل جماعتی کانفرنس کے شرکا سے وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ اب دلیرانہ اورجراتمندانہ فیصلوں کا وقت آ گیا ہے چنانچہ اسی رات قوم سے خطاب میں میاں نوازشریف نے دہشت گردی کے مقدمات کیلئے فوجی عدالتوں کے قیام کااعلان کیا تھا، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے جو رہنما آج فوجی عدالتوں کی مخالفت کررہے ہیں وہ جان لیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر زرداری صاحب اور میاں نواز شریف، مولانا فضل الرحمن سمیت لیڈروں نے بھی دستخط کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے عفریت کے مکمل خاتمے ریاست کی بقا اور سلامتی کیلئے فوجی عدالتیں ضرور بننا چاہئیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ 9/11 کے بعد امریکہ جیسے ملک میں بھی فوجی عدالتیں بنائی گئی تھیں اور 8 اگست 2009ء کو بھارت میں بھی فوجی عدالتیں بنی تھیں۔ ایک سوال کے جواب میں چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ 18 ویں ترمیم نے آنے والی نسلوں کے ساتھ ظلم کیا، تعلیم کو صوبوں کے حوالے کرکے بڑی زیادتی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یکساں قومی نصاب ہمارے بچوں اور پاکستان کی ضرورت ہے، ہمیں عصبیت اور نفرتوں سے پاک ایک ایسے قومی نصاب کی ضرورت ہے جو تمام صوبوں میں یکساں پڑھایا جاسکے اور اس سے قومی یکجہتی کو فروغ ملے۔

Share