پروڈکشن آرڈرز کیلئے قانون سازی میں وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے بھرپور تعاون کا شکریہ، خراج تحسین پیش کرتا ہوں: چودھری پرویز الٰہی

وزیر اعظم نے پنجاب اسمبلی میں جاری قانون سازی کو سراہا ہے، حکومت اور اپوزیشن سب نے مل کر ایوان کے وقار میں اضافہ کیا: سپیکر کا ایوان میں اظہار خیال

لاہور(13جون2019) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ پروڈکشن آرڈرز کیلئے قانون سازی میں وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھرپور تعاون کیا، جس کیلئے ان کا شکر گزار ہوں اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار سپیکر پنجاب اسمبلی نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا بے شک ہماری اپنی اپنی جماعتیں اور اپنے اپنے اصول، سیاسی موقف اور مسائل ہیں لیکن آپ تمام ارکان اسمبلی نے مل کر ایوان کے تقدس میں اضافے کا ایسا کام کیا ہے جس سے اجتماعی طور پر سب کو فائدہ ہوا ہے، اس کیلئے میں سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون محمد بشارت راجہ اور وزیر پراسیکیوشن چودھری ظہیرالدین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں میرے معاون رہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ آئندہ بھی مل کر کام کریں گے۔ سپیکر نے مزید کہا کہ پروڈکشن آرڈرز کی قانون سازی سے ایوان کے تقدس میں اضافہ ہوا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے پنجاب اسمبلی میں جاری قانون سازی کو سراہا ہے، ہمیں ایسے تاریخ ساز کام کرنے چاہئیں جنہیں آئندہ نسلیں یاد رکھیں، ہمیں اپنا دل بڑا رکھتے ہوئے ایک دوسرے کی بات سننی چاہئے۔ بعد ازاں سپیکر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل سہ پہر تین بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا۔ قبل ازیں چودھری پرویزالٰہی کے پروڈکشن آرڈر پر نیب کے زیرحراست اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو پنجاب اسمبلی پہنچا دیا گیا جہاں انہوں نے اسمبلی کے دسویں سیشن کے پہلے اجلاس میں شرکت کی۔ دریں اثناء سپیکر نے اپوزیشن رکن خواجہ سلمان رفیق کی بھی بجٹ اجلاس میں شرکت کیلئے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیا۔ حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کے اجراء پر اپوزیشن وفد نے سپیکر چودھری پرویزالٰہی سے ملاقات کر کے ان کا شکریہ ادا کیا۔ وفد میں میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن، خلیل طاہر سندھو اور دیگر ارکان شامل تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزراء محمد بشارت راجہ، چودھری ظہیرالدین اور ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری بھی موجود تھے۔ اپوزیشن وفد کی سپیکر سے ملاقات میں بجٹ اجلاس کے حوالہ سے بھی مشاورت کی گئی۔

Share