صوبوں کو تعلیمی نصاب بنانے کا اختیار دینے کے اسلام، پاکستان اور فوج دشمن نتائج سامنے آنے لگے: چودھری شجاعت حسین

عید میلادالنبیﷺ، شہید کربلا، نشان حیدر، فرموداتِ قائداعظم جیسے باب ختم کر کے آٹھویں کی کتاب میں اہم تہوار، خون کا بدلہ، موسم اور ریل کہانی وغیرہ شامل کر دئیے گئے

اٹھارویں ویں ترمیم کے وقت میں نے یہ اختیارات وفاق کے پاس رکھنے پر زور دیا تھا، ورنہ کوئی وزیراعلیٰ قائداعظم کی جگہ اپنی تصویر بھی لگا دے گا

لاہور(04جولائی2019) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین نے کہاہے کہ اٹھارویں ویں ترمیم کے تحت تعلیمی نصاب بنانے کا اختیار وفاق کی بجائے ہر صوبے کو دینے کے اسلام، پاکستان اور فوج دشمن نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، یہاں تک کہ پنجاب میں 2019-20 کیلئے حکومت کی جانب سے آٹھویں جماعت کیلئے اردو کی جو کتاب مفت تقسیم کی جا رہی ہے اس میں پرانے تعلیمی نصاب میں موجود عیدمیلادالنبیﷺ، شہید کربلا، حضرت بلال، فرمودات قائداعظم، نشان حیدر، تحریک پاکستان میں خواتین کا حصہ جیسے تمام باب ختم کر کے موجودہ تعلیمی نصاب میں پاکستان کے چند اہم تہوار، خون کا بدلہ، شہری دفاع، ہاکی، پاکستان کے موسم، ادب کی اہمیت، تفریح کی اہمیت اور ریل کہانی جیسے باب شامل کر دئیے گئے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہاکہ میں نے اٹھارویں ترمیم کے وقت اس ایشو پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیمی نصاب کی ذمہ داری صوبوں کے پاس جانے سے ملکی مستقبل پر ناقابل برداشت نقصانات سامنے آئیں گے، معاملات کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے، ہر حکومت اپنے نظریہ کے مطابق نصاب تبدیل کرتی رہے گی یہاں تک کہ کسی صوبہ کا وزیراعلیٰ چاہے تو قائداعظم کی جگہ اپنی تصویر بھی لگا سکتا ہے اور قانون اس کوروک نہیں سکتا، اب یہ ثابت ہو رہا ہے کہ ملک دشمن قوتیں افواج پاکستان کو کمزورکرنے کی بین الاقوامی سازش کے تحت افواج پاکستان کی قربانیوں کو آئندہ نسلوں سے اوجھل کرنا چاہتی ہیں اور اسلامی تاریخ کی سنہری شخصیات اور واقعات کو نصابی کتابوں سے نکال کر نظریہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبوں سے ابتدا سے ہی من مرضی کی ایسی تبدیلیوں کی اطلاعات آ رہی تھیں لیکن پنجاب سے ایسی افسوسناک تبدیلی انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آج بھی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ نصاب بناے کا اختیار وفاق کے پاس ہونا چاہئے جس سے اس قسم کی گھناؤنی سازشیں دفن ہو کر رہ جائیں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس قسم کی تبدیلی والی کتاب کو فوری طور پر تلف کر دیا جائے۔ چودھری شجاعت حسین نے افسوس کا اظہار کیا کہ صوبہ داروں نے اس گھناؤنی سازش کو کوئی اہمیت نہیں دی کہ متذکرہ کتاب میں سے نشان حیدر کا باب بالکل ختم کر کے ہماری قومی سلامتی کیلئے افواج پاکستان کی قربانیوں کے ناقابل فراموش باب کو آئندہ نسلوں کی نظر سے اوجھل کر دیا جائے جبکہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد سے ہی نصاب میں شامل علامہ اقبال کی مشہور دعائیہ نظم ”یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے“ اب غائب کر دی گئی ہے جبکہ اسلامی تاریخ کے سنہری باب اور دنیا کی تاریخ میں قربانی کی سب سے بڑی مثال شہید کربلا کے باب کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، تحریک پاکستان میں خواتین کے کردار جیسے اہم واقعات کی جگہ پاکستان کے موسم، تفریح کی اہمیت جیسے مضامین ڈال دئیے گئے ہیں۔

Share