پنجاب اسمبلی نے مفاد عامہ کے 17 قوانین منظور کئے، کارکردگی دیگر اسمبلیوں سے بہتر رہی

دس سال سے زیر التواء نئی عمارت اور مسجد دسمبر تک مکمل کر لی جائیگی، ارکان کیلئے نئے ہوسٹل کا کام بھی شروع ہے، ڈپٹی سپیکر کی کاوشیں بھی قابل تعریف ہیں: چودھری پرویزالٰہی

لاہور(31جولائی2019) پنجاب اسمبلی نے اپنے پہلے سال میں بہترین قانون سازی کی ہے، ایک سال میں مفاد عامہ سے متعلق 17 قوانین پاس کیے ہیں جن کی تعداد قومی اسمبلی اور دیگر صوبائی اسمبلیوں سے زیادہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے یہاں صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی نے اپنے پہلے پارلیمانی سال میں 12 اجلاسوں میں آئینی تقاضا پورا کرتے ہوئے 102 دن اجلاس کیا۔ پاس کردہ اہم قوانین میں

The Punjab Local Government Act-2019

The Punjab Right to Public Service Act-2019

The Punjab Domestic Workers Act-2019

کے علاوہ میانوالی میں نمل یونیورسٹی اور ڈیرہ غازی خان میں میر چاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے قیام کیلئے قانون سازی اور

The Punjab Assembly Secretariat Services Act-2019

شامل ہیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ ایک سال کے دوران پنجاب اسمبلی میں 470 سوالات کے جواب دئیے گئے، لاء اینڈ آرڈر سے متعلق 37 توجہ دلاؤ نوٹسز کے جوابات اسمبلی میں پیش کیے گئے جبکہ 719 تحاریک التوائے کار کے نوٹسز پر کارروائی ہوئی، مفاد عامہ کی 35 قراردادیں منظور کی گئیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ 10 سال سے زیر التواء اسمبلی کی نئی عمارت اور مسجد انشاء اللہ دسمبر 2019ء تک مکمل ہو جائے گی نیز ارکان اسمبلی کیلئے نئے ہاسٹل کی تعمیر کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی سپیکر کی کاوشیں بھی قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی، طلباء، ریسرچرز اور عوام کے استفادہ کیلئے پنجاب اسمبلی اپنی ویب سائٹ پر معلومات فراہم کرنے میں ہمیشہ اول نمبر پر رہی ہے، پنجاب اسمبلی کی ویب سائٹ پر ارکان اسمبلی اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں اس کے علاوہ پنجاب میں اطلاق پذیر تمام قوانین بھی اسمبلی ویب سائٹ پر مہیا کیے گئے ہیں۔ سپیکر چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ارکان اسمبلی کی حاضری سے آگاہی کیلئے اجلاسوں کے دوران ان کی حاضری بھی ویب سائٹ پر دی گئی ہے۔

Share